برسلز/اسپین: “رہائشی اجازت نامہ کوئی کھلا چیک نہیں”

IMG_1027

یورپی کمیشن کے کمشنر برائے امورِ مہاجرت میگنس برونر نے اسپین کی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ “رہائشی اجازت نامہ کوئی کھلا چیک نہیں ہوتا۔” یہ بیان انہوں نے یورپی پارلیمنٹ میں اس بحث کے دوران دیا جو وزیر اعظم پیدرو سانچیز کی حکومت کی جانب سے پانچ لاکھ سے زائد غیر قانونی تارکینِ وطن کو ریگولرائز کرنے کے فیصلے پر کی گئی۔

آسٹریا سے تعلق رکھنے والے کمشنر نے کہا کہ اگرچہ ریگولرائزیشن ہر رکن ملک کا خودمختار اختیار ہے، تاہم ہر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس کے فیصلوں کے یورپی یونین کے دیگر ممالک پر منفی اثرات نہ پڑیں۔ ان کے بقول، “یورپی یونین ستائیس ممالک پر مشتمل ہے، ایک ملک کا اقدام سب کو متاثر کرتا ہے۔”

انہوں نے وضاحت کی کہ شینگن زون میں جاری رہائشی اجازت نامہ سفر کی اجازت تو دیتا ہے، لیکن کسی دوسرے ملک میں مستقل سکونت کا حق نہیں دیتا۔ اگر کوئی شخص قواعد کی خلاف ورزی کرے تو اسے اسی ملک واپس جانا ہوگا جس نے اجازت نامہ جاری کیا تھا۔

یہ بحث یورپی پارلیمنٹ میں ہسپانوی پاپولر پارٹی کی درخواست پر ہوئی، مگر معاملہ جلد ہی ہسپانوی سیاست سے نکل کر یورپ بھر میں مہاجرت پالیسی پر دائیں اور بائیں بازو کے درمیان سخت اختلافات کا سبب بن گیا۔

قدامت پسند رکنِ پارلیمنٹ ٹوماس ٹوبے نے کہا کہ “پانچ لاکھ افراد کو عام معافی دینا شینگن نظام کے لیے براہِ راست چیلنج ہے۔” اس پر سوشلسٹ رہنما اراتشے گارسیا پیریز نے جواب دیا کہ “انہیں غیر یقینی حالت میں رکھنا مضبوطی نہیں بلکہ منافقت ہے۔ اسپین اور یورپ کو مہاجرت کی ضرورت ہے، کیونکہ اس کے بغیر نہ پنشن کا نظام چلے گا، نہ صحت کا، نہ معیشت بڑھے گی۔”

دائیں بازو کے اراکین نے فیصلے کو “غیر ذمہ دارانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثرات اسپین سے باہر بھی محسوس ہوں گے۔ لبرل رکن یان کرسٹوف اوئتین نے منظم مہاجرتی نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کام کرتے ہیں، قوانین کا احترام کرتے ہیں اور معاشرے میں حصہ ڈالتے ہیں، انہیں قیام کا موقع ملنا چاہیے۔

انتہاپسند دائیں بازو نے اپنی تقاریر میں مہاجرت کو جرائم اور سماجی دباؤ سے جوڑا۔ ہنگری کی رکن کنگا گال نے الزام لگایا کہ ہسپانوی حکومت “آبادی کی تبدیلی” کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جبکہ ووکس کے رکن خورخے بُکسادے نے دعویٰ کیا کہ یہ افراد سماجی خدمات پر بوجھ بنیں گے اور جرائم میں اضافہ کریں گے۔ اس کے جواب میں پرتگالی سوشلسٹ رکن برونو گونکالویش نے کہا، “لوگوں کے ساتھ عزت اور وقار سے پیش آنا چاہیے، انہیں مجرم بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔”

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے