ریگولرائزیشن سے مستفید ہونے والوں کی تعداد حکومتی اندازے سے زیادہ ہو سکتی ہے،پولیس کا دعویٰ

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ: ہسپانوی پولیس کی ایک نئی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ اسپین میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کی ریگولرائزیشن سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد حکومت کے اندازے سے دگنی ہو سکتی ہے۔

اسپین کی نیشنل پولیس کے ادارے CNIF نے پیش گوئی کی ہے کہ غیر معمولی ریگولرائزیشن کے عمل سے 7 لاکھ 50 ہزار سے 10 لاکھ تک غیر دستاویزی تارکین وطن قانونی حیثیت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں، جن میں 2 لاکھ 50 ہزار سے 3 لاکھ 50 ہزار کے درمیان پناہ کے متلاشی بھی شامل ہوں گے۔ پولیس کے مطابق قانونی حیثیت حاصل کرنے والوں کی تعداد حکومتی اندازے سے کم از کم دوگنا ہو سکتی ہے اور امیگریشن میں سالانہ 8 سے 10 فیصد اضافہ بھی متوقع ہے۔

دوسری جانب وزارتِ امیگریشن نے اس پیش گوئی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ محدود مدت کے لیے کی جانے والی ریگولرائزیشن سے منظم جرائم میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ اس سے غیر قانونی استحصال کا خاتمہ ہوتا ہے، کیونکہ بغیر کاغذات افراد استحصال کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسپین میں تارکین وطن کی قانونی حیثیت دینے کا نیا عمل شروع ہونے والا ہے، اور اس کے نتیجے میں ملک میں بڑی تعداد میں افراد کے قانونی نظام میں شامل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس عمل سے نہ صرف موجودہ غیر قانونی تارکین وطن کی صورتحال تبدیل ہوگی بلکہ مستقبل میں اسپین کو یورپ میں تارکین وطن کی ایک اہم منزل بھی بنا سکتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے