ایمنسٹی انٹرنیشنل نے میونخ کانفرنس میں یورپی قیادت کی “کمزور کارکردگی” کے مقابلے میں اسپین کو “استثنا” قرار دیا

Screenshot

Screenshot

امریکی سینیٹرز کا افسوس، یورپی سیاستدان ٹرمپ انتظامیہ کے “خون اور زمین” جیسے نعروں سے متاثر ہو رہے ہیں

میڈرڈ/ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سیکرٹری جنرل، Agnès Callamard، نے کہا ہے کہ میونخ سکیورٹی کانفرنس میں یورپی رہنماؤں کے “مایوس کن” ردعمل کے مقابلے میں اسپین ایک نمایاں استثنا کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ ردعمل امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio کی اس تقریر کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایک ایسے امریکی منصوبے کا ذکر کیا جسے ایمنسٹی نے یورپ کی تابعداری اور سفید فام عیسائی بالادستی پر مبنی قرار دیا۔

کالمارڈ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ رہنما عوامی سطح پر کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، روبیو کی تقریر کے بعد یورپی رہنماؤں کو اس منصوبے کی کھل کر مخالفت کرنی چاہیے تھی یا کم از کم خاموشی اختیار کرنی چاہیے تھی، لیکن اس کے برعکس وہاں تالیاں بجائی گئیں اور کھڑے ہو کر خیرمقدم کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کانفرنس نے یہ ظاہر کیا کہ یورپی سیاسی قیادت “بہترین صورت میں کمزور اور اوسط درجے کی” ہے۔ انہوں نے جرمنی کے چانسلر Friedrich Merz کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا روبیو کے اس بیان سے اتفاق، جس میں عالمی نظام کے خاتمے کی بات کی گئی، ناقابل قبول ہے۔

کالمارڈ کے مطابق جرمنی کے نمائندے اس رویے کی بدترین مثال تھے جبکہ اسپین اس صورتحال میں ایک مثبت استثنا کے طور پر سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر کانفرنس سے یہی پیغام ملا کہ امریکی منصوبے کے مقابلے میں یورپی قیادت میں نہ ہمت ہے، نہ وژن اور نہ مزاحمت۔

اپنے بیان کے ساتھ انہوں نے امریکی سینیٹر Chris Van Hollen کا پیغام بھی شیئر کیا، جس میں انہوں نے یورپی رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ وین ہولن نے کہا کہ روبیو کی تقریر پر کھڑے ہو کر تالیاں بجانا اس بات کی علامت ہے کہ کئی یورپی رہنما کمزور ہو چکے ہیں اور انسانی حقوق کے دفاع کے بجائے “خون اور زمین” جیسے نعروں سے متاثر ہو رہے ہیں، جو نازی جرمنی کے دور میں استعمال ہوتے تھے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے