ٹرمپ انتظامیہ کا انقلابی منصوبہ: 2030 تک ہر امریکی کے ہاتھ میں ‘اسمارٹ رنگ’ پہنانے کی تیاری

Screenshot

Screenshot

واشنگٹن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے نامزد سیکرٹری رابرٹ کینیڈی جونیئر نے امریکی شہریوں کی صحت کی نگرانی کے لیے ایک غیر معمولی منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت "میک امریکہ ہیلدی اگین” (MAHA) مشن کے حصے کے طور پر 2030 سے قبل تمام امریکیوں کو ‘اورا رنگ’ (Oura Ring) نامی اسمارٹ انگوٹھی پہنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

فن لینڈ کی کمپنی ‘اورا’ کی تیار کردہ یہ انگوٹھی محض ایک زیور نہیں بلکہ ایک جدید طبی آلہ ہے۔ یہ دل کی دھڑکن، نیند کے معیار، جسمانی درجہ حرارت اور خواتین کے مخصوص طبی مسائل کی مسلسل نگرانی کرتی ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اگر ہر شہری یہ ڈیوائس پہنے گا، تو بیماریوں کی ابتدائی علامات کا بروقت پتہ چل سکے گا، جس سے نہ صرف قیمتی جانیں بچائی جا سکیں گی بلکہ امریکہ کے سالانہ کھربوں ڈالر کے طبی اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

رپورٹس کے مطابق، اورا رنگ نے امریکی مارکیٹ کے 70 فیصد حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور محض ایک سال میں اس کی طلب میں 195 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کمپنی کی مالیاتی قدر اب 11 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پینٹاگون کی ڈیفنس ہیلتھ ایجنسی نے کمپنی کے ساتھ 96 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت امریکی فوجیوں کے لیے ٹیکساس میں ایک خصوصی فیکٹری بھی قائم کی گئی ہے۔

اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکی ادارے ‘ایف ڈی اے’ (FDA) کے سخت قوانین ہیں۔ فی الحال اسے محض ایک "صحت بخش مصنوعہ” مانا جاتا ہے، جبکہ اسے باقاعدہ "میڈیکل ڈیوائس” کا درجہ دلانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اورا کے سی ای او ٹام ہیل ایک نئی "ہائبرڈ کیٹیگری” متعارف کروانے کے لیے لابنگ کر رہے ہیں تاکہ طبی تشخیص کے بغیر ہی صارفین کو ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ اس منصوبے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ عالمی سطح پر ڈیجیٹل ہیلتھ کیئر کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے