کسی عورت کی آزادی کی پہلی شرط یہ ہے کہ اس کے ملک پر بمباری نہ ہو۔”منیویلا برگروت

IMG_3076

اس نے نو الفاظ کہے جنہوں نے پورے پارلیمان کو خاموش کر دیا، پھر ایوان شور سے گونج اٹھا۔

منیویلا برگروت میڈرڈ کی علاقائی پارلیمان میں داخل ہوئیں اور نو الفاظ پر مشتمل ایک ایسا جملہ کہا جس نے ہر سیاسی جواز، ہر فوجی بریفنگ اور ان تمام بیانیوں کو چیر کر رکھ دیا جن کے ذریعے ایران پر حملوں کو ضروری اور قابلِ دفاع قرار دیا جا رہا تھا۔

انہوں نے کہا:“آپ خواتین کے حقوق کا دفاع 160 لڑکیوں کی موت کا جشن منا کر نہیں کر سکتے۔”

یہ الفاظ سنتے ہی ایوان میں ہنگامہ برپا ہو گیا، اور یہ تقریر سرحدوں کے پار بھی تیزی سے پھیلنے لگی۔

برگروت دراصل ایران کے شہر میناب میں واقع شجرہ طیّبہ اسکول پر ہونے والی بمباری کا ذکر کر رہی تھیں، جسے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں تقریباً 165 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر 7 سے 12 سال کی عمر کی لڑکیاں تھیں۔

اقوام متحدہ نے اس واقعے کو انسانی ہمدردی کے عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل نے اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

پارلیمان میں موجود دائیں بازو کے سیاست دان ان حملوں کی حمایت کے لیے خواتین کے حقوق کا حوالہ دے رہے تھے، مگر برگروت نے ایک ایسے عدد کے ذریعے اس دلیل کو رد کر دیا جسے نہ بدلا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی اور معنی میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

میڈرڈ کی علاقائی صدر ایزابیل دیاز ایوسو نے جواب میں برگروت سے کہا کہ وہ اکیلی اور نشے کی حالت میں تہران چلی جائیں۔ اس جملے نے فوری طور پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا کہ جب خواتین سیاست دان جنگی بیانیے کو چیلنج کرتی ہیں تو ان کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔

برگروت نے اس کے جواب میں نہایت پرسکون مگر واضح الفاظ میں کہا:“کسی عورت کی آزادی کی پہلی شرط یہ ہے کہ اس کے ملک پر بمباری نہ ہو۔”

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے