فی الحال آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے بحری جہاز بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ جرمنی، اسپین اور اٹلی
Screenshot
امریکہ کے کئی اتحادی ممالک نے پیر کے روز کہا کہ ان کا فی الحال آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے بحری جہاز بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ اس طرح انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں انہوں نے اس اہم آبی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کے لیے فوجی تعاون مانگا تھا۔
ٹرمپ نے ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ آبنائے ہرمز کی نگرانی میں مدد کریں۔ یہ درخواست اس وقت سامنے آئی جب ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ڈرون، میزائل اور بارودی سرنگوں کا استعمال کیا، جس کے باعث یہ راستہ ٹینکروں کے لیے تقریباً بند ہو گیا۔ اسی راستے سے دنیا کے تقریباً پانچواں حصہ تیل اور مائع قدرتی گیس منتقل ہوتی ہے۔
جرمنی، اسپین اور اٹلی نے واضح کیا کہ وہ فی الحال خلیج میں کسی فوجی مشن میں حصہ نہیں لیں گے۔ جبکہ برطانیہ اور ڈنمارک نے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ممکنہ مدد کے طریقوں پر غور کر سکتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ انہوں نے کشیدگی کم کرنے اور جنگ میں گھسیٹے جانے سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جرمنی کے وزیر دفاع Boris Pistorius نے برلن میں کہا“ڈونلڈ ٹرمپ آخر یہ توقع کیوں رکھتے ہیں کہ چند یورپی فریگیٹ آبنائے ہرمز میں وہ کام کر سکیں گے جو طاقتور امریکی بحریہ نہیں کر سکتی؟”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر واشنگٹن کی مدد نہ کی گئی تو اس کے نیٹو اتحاد پر اثرات کی ٹرمپ کی دھمکیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
جرمن حکومت کے ترجمان نے واضح کیا کہ یہ جنگ نیٹو سے متعلق نہیں ہے اور جرمنی اس میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق“نہ امریکہ اور نہ ہی اسرائیل نے جنگ شروع کرنے سے پہلے ہم سے مشورہ کیا تھا، بلکہ واشنگٹن نے ابتدا میں یہ بھی کہا تھا کہ یورپ کی مدد نہ ضروری ہے اور نہ مطلوب۔”
اسپین نے بھی کہا کہ وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گا جس سے تنازع مزید بڑھ جائے۔ اٹلی کے نائب وزیر اعظم ماتیو سالوینی نے کہا کہ جنگی علاقے میں فوجی جہاز بھیجنا دراصل جنگ میں شامل ہونے کے مترادف ہوگا۔
انہوں نے میلان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا“اٹلی کسی کے ساتھ جنگ میں نہیں ہے، اور جنگی علاقے میں فوجی جہاز بھیجنا اس جنگ میں داخل ہونے کے برابر ہوگا۔”
نیٹو کے کئی ممالک، جو حالیہ مہینوں میں ٹرمپ کی تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں، وائٹ ہاؤس کو ناراض کرنے سے بھی محتاط ہیں۔ اسی لیے کچھ ممالک نے مسئلے کے حل کے لیے مدد کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، اگرچہ ابھی اس بارے میں واضح منصوبے سامنے نہیں آئے۔