حکومت سوشل میڈیا پر “نفرت کی ترویج” کو مانیٹرکرنے کا نظام متعارف کرائے گی
Screenshot
ہسپانوی مرکزی حکومت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کنٹرول سخت کرنے کے لیے اقدامات کے پیکج پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان اقدامات میں ایک اہم تجویز یہ بھی ہے کہ 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔
اس کے علاوہ، حکومت نے پہلے ہی استغاثہ (پراسیکیوٹر آفس) کو متحرک کیا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیے جانے والے ایسے مواد کی تحقیقات کی جا سکیں جو نابالغوں سے متعلق جنسی نوعیت کا ہو یا اس کی تشہیر کی جا رہی ہو۔
اسی سلسلے میں وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے منگل کو میڈرڈ میں منعقد ہونے والے نفرت کے خلاف پہلے فورم کی افتتاحی تقریب کے دوران ایک نیا نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا۔ اس نظام کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کس طرح معاشرے میں قطبیت (polarization) اور نفرت انگیزی کو بڑھاتے ہیں۔
نئے نظام کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہر اس نفرت انگیز مواد کے بارے میں عوام کے سامنے جواب دینا ہوگا جسے وہ اپنی سائٹس پر رہنے دیتے ہیں۔ اس کا مقصد ایک ایسا نظام بنانا ہے جس کے ذریعے نفرت اور سماجی تقسیم کو ماپا اور جانچا جا سکے۔
اس منصوبے کے تحت ایک نیا ٹول متعارف کرایا جائے گا جس کا نام HODIO (Huella del Odio y la Polarización) ہوگا۔ یہ ہسپانوی آبزرویٹری برائے نسل پرستی اور بیگانہ دشمنی کے تحت کام کرے گا۔
یہ نظام سائنسی اور تعلیمی معیار کے مطابق کام کرے گا اور اس میں اعدادی تجزیہ اور ماہرین کی جانچ دونوں شامل ہوں گے تاکہ نتائج زیادہ درست اور نمائندہ ہوں۔ اس کے نتائج عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور اس کی بنیاد پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی درجہ بندی بھی کی جا سکتی ہے کہ کون سا پلیٹ فارم نفرت انگیز مواد کے حوالے سے بہتر یا بدتر ہے۔
حکومت ان اصلاحات کو جلد نافذ کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں ایک مختصر راستہ اختیار کرنا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے نابالغوں کے ڈیجیٹل تحفظ سے متعلق قانون کے موجودہ مسودے میں ہی نئی شقیں شامل کرنے کی تجویز ہے۔
ان نئی شقوں میں دو اہم نکات شامل ہوں گے:
- سوشل میڈیا کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کی فوجداری ذمہ داری
- الگورتھم میں ہیرا پھیری اور غیر قانونی مواد کو بڑھانے (amplification) کو قابل سزا جرم قرار دینا
تاہم اس اقدام کو منظور کروانے کے لیے حکومت کو اپنے اتحادی جماعتوں کی حمایت درکار ہوگی کیونکہ اس قانون میں ترامیم کی مدت پہلے ہی ختم ہو چکی ہے اور اب صرف مذاکرات کے ذریعے ہی تبدیلی ممکن ہے۔
حکومت کے اس اعلان پر حزب اختلاف کے رہنما البرتو نونیز فیخو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر سخت ردعمل دیا۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا“یہ ہیں دیواروں کے صدر، اوتےگی کے اتحادی اور مادورو کے دوست، جو نفرت کے موضوع پر لیکچر دے رہے ہیں۔ امن کے بارے میں وہ شخص بات کر رہا ہے جو اسے اپنے ہی ملک میں عملی طور پر نہیں دکھاتا۔”