بارسلونا: ایک مبینہ پادری کے خلاف کمسن لڑکی کے ساتھ تین سال تک جنسی زیادتی کی تحقیقات

Screenshot

Screenshot

بارسلونا کی ایک عدالت (Juzgado de Instrucción número 17) ایک ایوینجیلیکل چرچ کے پادری، Radill G.S. کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی ہی جماعت کی ایک کمسن لڑکی کو، جو اپنے خاندان کے ساتھ وہاں آتی تھی، تین سال تک مسلسل جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

درج کرائی گئی شکایت (Querella) کے مطابق یہ سلسلہ 2018 میں شروع ہوا جب متاثرہ لڑکی کی عمر صرف 13 سال تھی۔ پادری نے مبینہ طور پر "غیر مناسب جسمانی قربت” بڑھانا شروع کی۔ پادری لڑکی کو تنہائی میں ملتا، اس کی نجی اور جنسی زندگی کے بارے میں سوالات کرتا اور اسے روزانہ پیغامات بھیج کر کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا۔ وہ ان پیغامات کو مٹانے کا بھی کہتا تاکہ اس کی بیوی (جو خود بھی وہاں پادری ہے) کو علم نہ ہو سکے۔

 ملزم اپنے اس رویے کو "باپ جیسا پیار” قرار دیتا اور کہتا کہ وہ اسے "خدا کی نظر میں بہتر انسان” بننے میں مدد کر رہا ہے۔

وقت کے ساتھ یہ بدسلوکی بڑھتی گئی۔ 2021 میں جب لڑکی گھر پر اکیلی تھی، پادری نے وہاں جا کر مبینہ طور پر شدید جنسی حملے کیے۔ آخری واقعہ چرچ میں صبح چھ بجے پیش آیا جب وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔ اس واقعے کے بعد لڑکی نے چرچ جانا چھوڑ دیا، تاہم اس کا خاندان لاعلمی میں وہاں جاتا رہا۔ کچھ عرصہ قبل لڑکی نے ہمت جمع کر کے اپنے ساتھ ہونے والے اس "خوف اور درد” کا انکشاف کیا۔

عدالتی کارروائی متاثرہ لڑکی اپنا بیان قلمبند کرا چکی ہے، جبکہ ملزم پادری کو مارچ کے آخر میں بطور تفتیش طلب کیا گیا ہے۔

کاتالونیا کی ایوینجیلیکل کونسل (Consell Evangèlic de Catalunya) نے اس معاملے کی معلومات اکٹھی کرنے کے لیے فائل کھول دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسے واقعات پر "زیرو ٹالرنس” (قطعی برداشت نہ کرنا) کی پالیسی رکھتے ہیں اور متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وہ اس کیس میں بطور نجی استغاثہ بھی شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے