اسپین میں ہر چار میں سے ایک غیر ملکی شہری 2023 اور 2024 میں آیا
Screenshot
اسپین میں مقیم غیر ملکیوں میں سے ہر چار میں سے ایک شخص گزشتہ دو برسوں یعنی 2023 اور 2024 کے دوران ملک میں داخل ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری 2025 تک اسپین میں بیرونِ ملک پیدا ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 94 لاکھ 64 ہزار 210 تھی، جن میں سے 24.4 فیصد (تقریباً 23 لاکھ افراد) صرف انہی دو برسوں میں آئے۔ جبکہ 12.8 فیصد افراد صرف آخری ایک سال میں اسپین پہنچے۔
قومی ادارہ شماریات (INE) کے مطابق صرف دو سال میں آنے والے مہاجرین کی تعداد تقریباً اس کے برابر ہے جو 2001 سے 2010 کی پوری دہائی میں آئی تھی۔
نئے آنے والوں کی اکثریت لاطینی امریکہ سے تعلق رکھتی ہے، اور اندازاً 86 فیصد افراد اسی خطے سے ہیں۔
ملکی لحاظ سے دیکھا جائے توکولمبیا سے آنے والوں میں 34.7 فیصد نے 2023-2024 میں ہجرت کی،پیرو سے 32.4 فیصد،وینزویلا سے 31.3 فیصد
اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کولمبیا سے آنے والوں کی تعداد 2021 میں 52,945 تھی جو 2024 میں بڑھ کر 173,434 ہو گئی۔ اسی طرح پیرو اور وینزویلا سے آنے والوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
دوسری جانب بولیویا (10.8 فیصد)، ایکواڈور (13.1 فیصد) اور برطانیہ (13.6 فیصد) سے حالیہ برسوں میں کم لوگ آئے۔
یوکرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسپین میں مقیم تقریباً 2 لاکھ 9 ہزار یوکرینی شہریوں میں سے قریب نصف گزشتہ تین برسوں میں جنگ کے باعث یہاں آئے ہیں۔
مزید یہ کہ بولیویا، رومانیہ اور ایکواڈور سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت 2001 سے 2010 کے درمیان اسپین منتقل ہوئی تھی، جبکہ فرانس سے آنے والوں کی بڑی تعداد 2001 سے پہلے آئی تھی۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں اسپین تیزی سے مہاجرین کی بڑی منزل بنتا جا رہا ہے۔