یو اے ای کا اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان، خطے کی کشیدگی کے دوران بڑا فیصلہ
Screenshot
متحدہ عرب امارات نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس کی رکنیت ختم کر دے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں سمندری سرگرمیوں کی معطلی نے عالمی توانائی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔
یو اے ای کے وزیر توانائی سہیل المزروعی نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک نے یہ قدم طویل مدتی معاشی حکمت عملی کے تحت اٹھایا ہے، جس کا مقصد توانائی کے شعبے کو عالمی مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق ڈھالنا اور کم کاربن معیشت کی طرف پیش رفت کرنا ہے۔ انہوں نے اوپیک کے ساتھ دہائیوں پر محیط تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یو اے ای عالمی منڈی میں ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد توانائی فراہم کنندہ کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گا۔
یو اے ای 1967 میں اوپیک کا حصہ بنا تھا اور 1971 میں ملک کے قیام کے بعد بھی اس تنظیم میں شامل رہا۔ اوپیک، جو 1960 میں قائم ہوئی، تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور پیداوار کے کوٹے کے ذریعے عالمی قیمتوں پر اثر انداز ہونے کا اہم پلیٹ فارم سمجھی جاتی ہے۔ بعد ازاں اوپیک پلس کے قیام سے روس اور دیگر بڑے پیداواری ممالک بھی اس تعاون میں شامل ہوئے۔
حالیہ مہینوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران کے ساتھ تنازع، یو اے ای کے لیے سکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔ توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں اور تجارتی راستوں میں رکاوٹوں نے ملک کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کیا۔ یو اے ای پہلے ہی اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کا ازسرنو جائزہ لینے کا عندیہ دے چکا تھا۔
جغرافیائی لحاظ سے یو اے ای خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ہے، جس کی وجہ سے اسے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل راستے اختیار کرنا پڑے۔ اس سلسلے میں ادنوک کے ذریعے پائپ لائن نیٹ ورک کو استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ عالمی منڈیوں تک تیل کی فراہمی جاری رکھی جا سکے۔
اگرچہ یو اے ای کی تیل پیداوار میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں کمی دیکھی گئی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اوپیک سے علیحدگی کے باوجود ملک عالمی توانائی منڈی کے استحکام میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف یو اے ای کی اقتصادی ترجیحات میں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ خطے میں جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ کے اثرات کو بھی واضح کرتا ہے۔