بارسلونا کے سی آئی ای میں مبینہ بدسلوکی کا کیس اقوامِ متحدہ تک پہنچ گیا
Screenshot
انسانی حقوق کی تنظیم Irídia نے بارسلونا کے Centre d’Internament d’Estrangers de la Zona Franca (سی آئی ای) میں مبینہ بدسلوکی کے ایک کیس کو اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ تشدد کے سامنے لے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تنظیم کے مطابق 21 ستمبر 2017 کو مرکز کے صحن میں ایک احتجاج ہوا، جس کے بعد کئی زیرحراست افراد کو ایک راہداری اور باتھ روم میں لے جایا گیا، جہاں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ Irídia، جو تین متاثرہ افراد کی نمائندگی کر رہی ہے، کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد کے مطابق راہداری میں نصب سیکیورٹی کیمروں نے ایسے مناظر ریکارڈ کیے جن میں افراد کو گھسیٹتے ہوئے لے جایا گیا اور بعد میں وہ واضح زخموں کے ساتھ باہر آئے۔
یہ کیس متاثرین کی شکایات اور طبی رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آیا، تاہم تمام متاثرہ افراد کو بیان دینے سے پہلے ہی ملک بدر کر دیا گیا، جس کی وجہ سے عدالتی کارروائی متاثر ہوئی۔ اگرچہ بارسلونا کی ایک عدالت نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کیں، لیکن متاثرین کے بیانات نہ ہونے کے باعث کیس بند کر دیا گیا۔
بعد ازاں صرف ایک متاثرہ شخص سے دوبارہ رابطہ ہو سکا، لیکن اس کی کمزور حالت اور اسپین آ کر بیان نہ دے سکنے کی وجہ سے کیس آگے نہ بڑھ سکا۔ باقی دو کیسز میں تنظیم نے داخلی قانونی راستے اختیار کرتے ہوئے Tribunal Constitucional میں اپیل دائر کی، مگر اسے بغیر سماعت کے مسترد کر دیا گیا۔
اس صورتحال کے بعد Irídia نے معاملہ اقوامِ متحدہ کی کمیٹی کے سامنے پیش کر دیا ہے۔ تنظیم کا مطالبہ ہے کہ ہسپانوی ریاست کو مؤثر تحقیقات کا پابند بنایا جائے، ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرین کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔
مزید برآں، تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ سی آئی ای مراکز میں سیکیورٹی کیمروں کی مناسب دیکھ بھال اور ریکارڈ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، اور ایسے مقدمات میں عدالتیں فوری کارروائی کریں تاکہ انسانی حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔