کاتالونیا میں سادہ لباس پولیس اہلکاروں کی پرائمری اسکولوں تک تعیناتی کا فیصلہ
Screenshot
کاتالونیا کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سادہ لباس میں موسس پولیس کے اہلکار نہ صرف ہائی اسکولوں بلکہ پرائمری اسکولوں میں بھی تعینات کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی یا نظم و ضبط کا کوئی بڑا مسئلہ نہیں، تاہم بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
یہ منصوبہ اس ہفتے سے 14 تعلیمی اداروں میں آزمائشی طور پر شروع کیا گیا ہے، جہاں چھ اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ تعلیمی سال کے اختتام اور سال کے آخر میں اس منصوبے کا جائزہ لیا جائے گا اور فیصلہ کیا جائے گا کہ اسے مزید وسعت دی جائے یا نہیں۔
کاتالونیا کی وزیر تعلیم Esther Niubó نے پریس کانفرنس میں کہا کہ منتخب کیے گئے اسکول کسی خاص تنازع یا مسائل کی بنیاد پر نہیں چنے گئے، بلکہ مقامی سطح پر ہم آہنگی اور رضاکارانہ شمولیت کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ان اداروں میں پرائمری اسکول، سیکنڈری، ایف پی مراکز اور دیہی و شہری علاقوں کے تعلیمی ادارے شامل ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس منصوبے کا مقصد ردِعمل کے بجائے پیشگی روک تھام ہے، تاکہ مسائل کے بڑھنے سے پہلے ہی انہیں حل کیا جا سکے۔ ان اہلکاروں کو “ایجنٹ برائے ہم آہنگی” کا نام دیا گیا ہے، جو ثالثی، رہنمائی اور تنازعات کے حل میں کردار ادا کریں گے۔
یہ اہلکار کلاس روم میں تدریس کا حصہ نہیں ہوں گے بلکہ اسکول انتظامیہ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ان کا کردار تعلیمی عملے کی جگہ لینا نہیں بلکہ ان کی مدد اور تکمیل کرنا ہوگا۔
اگرچہ کچھ اساتذہ نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم اساتذہ یونینز نے اس پر سخت تنقید کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ انہیں پہلے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس کے باوجود حکومت کا کہنا ہے کہ شامل ہونے والے تمام ادارے رضاکارانہ طور پر اس منصوبے کا حصہ بنے ہیں اور کسی نے علیحدگی اختیار نہیں کی۔
حکام کے مطابق اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو مستقبل میں مزید اسکولوں کو بھی اس سہولت کی پیشکش کی جا سکتی ہے، تاہم فی الحال اسے عام کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔