Screenshot
اسپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ اسپین نے باضابطہ طور پر یورپی کمیشن سے درخواست کی ہے کہ مایورکا کو مغربی بحیرۂ روم میں آگ سے نمٹنے کے مستقبل کے یورپی مرکز (ہب) کا صدر مقام بنایا جائے۔ یہ ایک اہم اسٹریٹجک منصوبہ ہوگا جس کا مقصد جنوبی یورپ میں بڑھتی ہوئی جنگلاتی آگوں کے خلاف مشترکہ ردِعمل کو منظم کرنا ہے۔
سانچیز نے بتایا کہ انہوں نے یہ تجویز ذاتی طور پر بادشاہ فیلیپ ششم اور بالیاری حکومت کی صدر مارگا پروہینس کو بھی پیش کی ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہوں نے یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا فان ڈیر لاین کو خط لکھا ہے تاکہ مایورکا کی اس امیدواری کی حمایت کی جا سکے۔
اس منصوبے کے تحت پالما میں واقع سون سانت خوان کی فضائیہ بیس کو ایک مرکزی مقام بنایا جائے گا جہاں وسائل، رابطہ کاری اور ہنگامی ردِعمل کی صلاحیتیں اکٹھی کی جائیں گی، بالکل اسی طرز پر جیسے مشرقی بحیرۂ روم میں پہلے سے ایک مرکز قائم ہے۔
اپنی گفتگو میں سانچیز نے یاد دلایا کہ یورپی کمیشن پہلے ہی مشرقی بحیرۂ روم کے لیے قبرص میں ایک بڑا کوآرڈینیشن سینٹر قائم کر چکا ہے، اور اب ضرورت ہے کہ مغربی حصے کے لیے بھی ایسا ہی ایک عملی مرکز بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بالیاری جزائر کی جغرافیائی اہمیت اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی شدید اور بار بار لگنے والی آگوں کے پیشِ نظر یورپی تعاون کو مزید مضبوط کرنا ضروری ہے۔
اگرچہ منصوبے کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن اس سے توقع ہے کہ مایورکا یورپ کے اہم مراکز میں شامل ہو جائے گا جہاں فضائی وسائل اور بڑے پیمانے پر آگ سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کو منظم کیا جائے گا۔ اس سے اسپین، پرتگال، فرانس، اٹلی اور دیگر مغربی بحیرۂ روم کے ممالک تک فوری رسائی اور مدد ممکن ہو سکے گی۔
یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب گرمیوں کے موسم میں اسپین شدید جنگلاتی آگوں اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا سامنا کر رہا ہے۔
اسی موقع پر سانچیز نے اپنے حالیہ دورۂ الجزائر کا بھی ذکر کیا اور اسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم موڑ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون کے ساتھ ملاقات میں غیر قانونی ہجرت کو کم کرنے کے لیے واپسی کے نظام (ری پیٹری ایشن) کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا، کیونکہ بالیاری جزائر اس دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے پر بالیاری حکومت کے ساتھ بھی بات چیت ہو چکی ہے اور دونوں حکومتیں مل کر اس مسئلے کو کم کرنے کی کوشش کریں گی۔
