ہنرمند تارکینِ وطن کو ترجیح دینے کے لیے امیگریشن قانون میں تبدیلی کی تجویز مسترد
Screenshot
اسپین کی وزیر برائے شمولیت، سماجی تحفظ اور ہجرت ایلما سائیز نے امیگریشن قانون میں بنیادی تبدیلیاں کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہی ایک غیر معمولی ریگولرائزیشن کے عمل پر کام کر رہی ہے جس کے تحت تقریباً آٹھ لاکھ افراد کو اسپین میں کام اور رہائش کی اجازت مل سکے گی۔
وزیر نے بارسلونا میں معاشی ادارے سرکل دِ اکنومیا کے ہیڈکوارٹر میں ایک مباحثے کے دوران کہا کہ موجودہ امیگریشن نظام میں ایسے طریقے موجود ہیں جو اسپین کی کمپنیوں کو درکار پیشہ ور افراد کو لیبر مارکیٹ میں شامل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس لیے صرف زیادہ تعلیم یافتہ یا ہنرمند تارکینِ وطن کو ترجیح دینے کے لیے قانون میں بڑی تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے۔
ایلما سائیز نے اس بحث کو انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھا اور کہا کہ ہجرت کو صرف معاشی ضرورت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق موجودہ قوانین پہلے ہی مخصوص مہارت رکھنے والے افراد کو آسانی سے اسپین آنے کے لیے خصوصی ویزا فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسپین میں سوشل سکیورٹی میں رجسٹرڈ تقریباً 30 لاکھ غیر ملکی کارکنوں میں سے لگ بھگ ایک لاکھ خواتین ایسے خصوصی ورک ویزا کے ذریعے کام کر رہی ہیں جو اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کے لیے جاری کیے جاتے ہیں۔ وزیر کے الفاظ میں:
“ہجرت صرف محنت نہیں بلکہ ایک طرح کی صلاحیت اور ٹیلنٹ بھی ہے۔”
وزارت کے مطابق غیر قانونی طور پر رہنے والے افراد کو قانونی حیثیت دینے کا عمل اپریل کے آغاز میں شروع ہوگا۔ اس کے ذریعے ہزاروں ایسے افراد کو قانونی کام کی اجازت ملے گی جو پہلے سے اسپین میں رہ رہے ہیں اور اس سے غیر رسمی معیشت کے ایک حصے کو باضابطہ نظام میں لانے میں بھی مدد ملے گی۔
گزشتہ پانچ برسوں میں اسپین کی اقتصادی ترقی میں تارکینِ وطن کی بڑی تعداد میں شمولیت کو ایک اہم عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔ تحقیقی ادارے فنکاس کے مطابق 2022 کے بعد سے اسپین کی جی ڈی پی میں ہونے والی تقریباً آدھی ترقی بیرونی کارکنوں کی لیبر مارکیٹ میں شمولیت کی وجہ سے ہوئی۔
تاہم بعض معاشی حلقے یہ کہتے ہیں کہ یہ اضافہ زیادہ تر کم پیداوار والے شعبوں جیسے سیاحت، ہوٹلنگ اور تعمیرات میں ہو رہا ہے۔ سرکل دِ اکنومیا کی صدر تریسا گارسیا میلا کا کہنا تھا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ ہجرت کی ضرورت ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس کی رفتار اور نوعیت کیا ہونی چاہیے۔
وزیر سائیز نے اس تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہجرت معیشت کے لیے مثبت اثرات رکھتی ہے، مزدوروں کی کمی کو پورا کرتی ہے، کاروباری سرگرمی کو برقرار رکھتی ہے اور نئی ٹیکنالوجی اور جدت کے فروغ میں بھی مدد دیتی ہے۔