ایران پر حملے کی مخالفت، ترکی میں ہسپانوی وزیر اعظم سانچیز کی غیر معمولی مقبولیت

Screenshot

Screenshot

اسپین کے وزیر اعظم پیدروسانچز کی جانب سے ایران پر ممکنہ جنگ کی مخالفت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف پر کھلی تنقید نے ترکی میں غیر متوقع ردعمل پیدا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں ترک شہریوں نے اسپین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے میمز، تصاویر اور پیغامات شیئر کیے ہیں جن میں دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی قربت اور بھائی چارے کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپین کے جنگ مخالف مؤقف کے بعد ترکی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ہسپانوی عوام کے حق میں دلچسپ اور مزاحیہ پیغامات کی بھرمار ہو گئی۔ بعض صارفین نے ہسپانویوں کو بالوں کی پیوند کاری کی پیشکش جیسے لطیفے کیے، جبکہ کچھ تصاویر میں ہسپانوی بیل اور ترک اساطیر کے علامتی بھیڑیے کو ایک دوسرے کو گلے لگاتے دکھایا گیا۔

ترکی نے بھی ایران کے خلاف کسی ممکنہ امریکی کارروائی کے لیے اپنی فوجی تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی، تاہم ترک صدر طیب اردگان نے نسبتاً محتاط موقف اختیار کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پر زور دیا ہے۔ اس کے باوجود ترک عوام کے ایک بڑے حصے نے سانچیز کے واضح اور دوٹوک مؤقف کو سراہا ہے۔

ترکی میں سوشل میڈیا کے استعمال کی شرح بہت زیادہ ہے اور سیاسی مباحث اکثر آن لائن ہی شروع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں گوگل پر سانچیز کے بارے میں تلاش میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جبکہ ترکی کے معروف آن لائن فورمز پر بھی ان کے بارے میں سینکڑوں تبصرے سامنے آئے ہیں۔

کچھ ترک صحافیوں اور سوشل میڈیا شخصیات نے تو اپنے پیروکاروں کو ہسپانوی مصنوعات خریدنے کی ترغیب بھی دی ہے تاکہ ممکنہ امریکی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان میں ہسپانوی برانڈز جیسے Zara، Bershka اور گاڑیوں کے برانڈ SEAT اور Cupra کا ذکر بھی کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی میں کسی سیاسی شخصیت کو اچانک سوشل میڈیا پر مقبولیت مل جانا نئی بات نہیں، تاہم سانچیز کے جنگ مخالف مؤقف نے نہ صرف ترکی بلکہ مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق اس صورتحال نے اسپین اور ترکی کے درمیان موجود تاریخی اور انسانی ہمدردی کے تعلقات کو بھی ایک مرتبہ پھر نمایاں کر دیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے