وہ دن جب خانقاہ کی گوشہ نشین راہبات ووٹ ڈالنے کے لیے باہر نکلتی ہیں
Screenshot
اتوار کی صبح نو بجے آویلا کے Monasterio de la Encarnación کی گھنٹیاں روزمرہ کی خاموشی کو توڑ دیتی ہیں۔ آج کاسیتا ای لیون کی پارلیمنٹ کے انتخابات کا دن ہے۔ یہ اس روحانی مقام پر ایک غیر معمولی دن ہوتا ہے جہاں عام طور پر وقت جیسے ٹھہر جاتا ہے۔ خانقاہ کی گوشہ نشین راہبات اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لیے خانقاہ کا دروازہ پار کرتی ہیں۔ بعض کے لیے یہ صرف شہری فریضہ نہیں بلکہ ان چند مواقع میں سے ایک ہوتا ہے جب وہ اپنے خاندان والوں کو گلے لگا سکتی ہیں۔

والدین، بہن بھائی، چچا، خالہ اور دادا دادی بارسلونا، ایلیکانتے اور اسپین کے مختلف حصوں سے یہاں پہنچتے ہیں تاکہ چند گھنٹوں کے لیے ان سے مل سکیں، اس سے پہلے کہ خانقاہ کا دروازہ دوبارہ بند ہو جائے اور خاموشی واپس لوٹ آئے۔
یہ ملاقاتیں انتہائی جذباتی ہوتی ہیں۔ 26 سالہ Lucía Rodríguez Aznar دو سال بعد اپنی 21 سالہ بہن کو گلے لگا رہی ہے۔ وہ کہتی ہیں:
“ہم سب خاندان ایک ہی طرح کرتے ہیں۔ ہم دوڑ کر ایک دوسرے کو مضبوطی سے گلے لگاتے ہیں اور خوشی سے بے قابو ہو جاتے ہیں۔”
48 سالہ Carmen Pérez جو میڈرڈ سے اپنی خالہ سے ملنے آئی ہیں، کہتی ہیں:“یہ بہت بڑا لمحہ ہوتا ہے۔ جیسے خدا کو گلے لگانا۔ روحانی طور پر یہ بہت طاقتور لمحہ ہے۔”

راہبات کے لیے خانقاہ سے باہر نکلنا غیر معمولی بات ہے۔ ان کے اہلِ خانہ کے مطابق وہ عام طور پر صرف تین وجوہات سے باہر آتی ہیں: ڈاکٹر کے پاس جانے، قومی شناختی کارڈ کی تجدید اور ووٹ ڈالنے کے لیے۔
20 سالہ کارملائٹ راہبہ مارتا کی والدہ María José Sánchez کہتی ہیں“عام طور پر جب ہم ان سے ملنے آتے ہیں تو ہم انہیں ایک جالی کے پیچھے بیٹھ کر بات کرتے ہوئے دیکھتے ہیں اور گلے نہیں لگا سکتے۔ کئی مہینوں بعد انہیں بوسہ دینا اور گلے لگانا بے حد خوشی کی بات ہے۔”
ووٹ ڈالنے سے پہلے ملاقاتیں اور دعائیں
صبح تقریباً ساڑھے دس بجے چند راہبات خانقاہ کی دہلیز عبور کرتی ہیں اور اس دنیا میں قدم رکھتی ہیں جس سے وہ اپنی مرضی سے الگ رہتی ہیں۔ وہ اپنے پولنگ اسٹیشن یعنی سرکاری اسکول El Pradillo کی طرف جاتی ہیں۔ راستے میں Santa Teresa de Jesús کے مجسمے کے پاس سے گزرتی ہیں، جو یاد دلاتا ہے کہ یہ خانقاہ ان کی زندگی کا اہم حصہ رہی ہے۔
جب مادرِ اعلیٰ اسکول میں داخل ہوتی ہیں تو ایک بچہ انہیں Santa Teresa de Jesús سمجھ لیتا ہے۔ اندر راہبات ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔ کوئی ہنستے ہوئے کہتی ہے:
“بہن! کتنے دنوں بعد ملاقات ہوئی!”
وہ ایک دوسرے کو گلے لگاتی ہیں اور اپنے خاندان والوں سے بھی ملتی ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ ووٹنگ بکسوں کی طرف بڑھتی ہیں۔ ایک راہبہ بیلٹ ڈالنے سے پہلے میز کے ارکان سے کہتی ہے:
“خدا آپ کو برکت دے۔”
اس وقت خانقاہ میں 28 راہبات رہتی ہیں اور یہاں داخلے کے لیے انتظار کی فہرست بھی موجود ہے۔ سب سے کم عمر 20 سال اور سب سے زیادہ عمر 96 سال ہے، جبکہ اوسط عمر تقریباً 42 سال ہے۔ تمام راہبات ہسپانوی ہیں، سوائے ایک کے جو واشنگٹن سے ہیں۔
ان میں سے ایک راہبہ Almudena Rojas ہیں۔ انہوں نے خانقاہ میں داخل ہونے سے پہلے قانون اور سیاست کی تعلیم حاصل کی تھی اور جج بننے یا Tribunal de Derechos Humanos میں کام کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ وہ ہارورڈ میں ماسٹر کرنے کا بھی سوچ رہی تھیں۔ مگر بعد میں انہوں نے کہا کہ انہیں محسوس ہوا کہ خدا انہیں اپنی زندگی اس کے لیے وقف کرنے کی دعوت دے رہا ہے، اس لیے انہوں نے 22 سال کی عمر میں خانقاہ میں داخلہ لے لیا۔
خانقاہ میں دیگر تعلیم یافتہ خواتین بھی ہیں، جن میں ایک صنعتی انجینئر، ایک حیاتیات دان، کئی نرسیں، ایک نفسیاتی تعلیمی ماہر اور ایک ماہر معاشیات شامل ہیں۔
کارملائٹ راہبات غربت، پاکدامنی اور اطاعت کی قسمیں کھاتی ہیں۔ وہ صبح 6:30 بجے اٹھتی ہیں۔ دن میں صرف دو گھنٹے انہیں آپس میں گفتگو کی اجازت ہوتی ہے، باقی وقت خاموشی میں عبادت اور خانقاہ کے کاموں میں گزرتا ہے جیسے کھانا پکانا، استری کرنا اور سلائی۔
باہر کی دنیا سے ان کا رابطہ بہت محدود ہے۔ ان کے پاس نہ ٹیلی ویژن ہے نہ انٹرنیٹ۔ ملاقاتیں ایک مخصوص کمرے میں جالی کے ذریعے ہوتی ہیں جہاں جسمانی رابطہ ممکن نہیں ہوتا۔ اکثر انہیں دنیا کے حالات کا علم آنے والوں سے ہی ہوتا ہے۔
وہ گوشت نہیں کھاتیں اور سال کے بعض اوقات میں انڈے، دودھ اور پنیر بھی نہیں کھاتیں۔ وہ بغیر موزوں کے اسپین کی سردی میں سادہ جوتے پہنتی ہیں اور خانقاہ میں ہیٹنگ بھی نہیں ہوتی، حالانکہ آویلا میں سردیوں میں درجہ حرارت صفر سے نیچے چلا جاتا ہے۔
مقامی خاتون Ana Isabel Velayos بتاتی ہیں کہ ہر الیکشن میں یہی منظر اسکول El Pradillo میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ 2019 کے انتخابات میں جب راہبات ووٹ ڈالنے آئیں تو انہوں نے پوچھا:
“کیا بہت لوگ ووٹ ڈالنے آئے ہیں؟ یہ اچھی بات ہے کیونکہ لوگوں کو حصہ لینا چاہیے۔”
اس دن جذبات اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔ ایک خاتون کہتی ہیں“مبارک ہوں یہ ووٹنگ، کیونکہ اسی بہانے ہم انہیں اپنے قریب دیکھ لیتے ہیں۔”
بہت سے خاندان والے اگلے انتخابات کے دن گننا شروع کر دیتے ہیں، کیونکہ یہ ان چند مواقع میں سے ایک ہوتا ہے جب ووٹ ڈالنے کا عمل انہیں اپنے پیاروں کو گلے لگانے کا موقع دے دیتا ہے۔ جیسا کہ ایک خاتون نے کہا:
“سیاست تو اصل میں ثانوی چیز ہے۔”