وارسا میٹرو میں توڑ پھوڑ کے الزام میں چار ہسپانوی شہریوں کو دو ماہ کی حفاظتی حراست

Screenshot

Screenshot

وارسا (پولینڈ) ایک عدالت نے ہفتہ کے روز چار ہسپانوی شہریوں، جن میں تین مرد اور ایک خاتون شامل ہیں، کو دو ماہ کی قبل از مقدمہ حراست (پری وینٹیو جیل) میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ ان پر پولینڈ کے دارالحکومت وارسا کے میٹرو سسٹم میں توڑ پھوڑ کرنے کا الزام ہے۔

وارسا پولیس کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ بدھ کے روز میٹرو ٹرین کے سفر کے دوران ایمرجنسی بریک استعمال کر کے ٹرین کے دروازے کھول دیے جس سے میٹرو کی آمد و رفت متاثر ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے ٹرین کے ڈبوں کے بیرونی حصے پر گرافیتی (دیواروں پر سپرے پینٹ سے نقش و نگار) بنا دیے۔

پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایک گشتی ٹیم نے فوراً ملزمان کی تلاش شروع کر دی اور جلد ہی تین مردوں کو گرفتار کر لیا۔ ان کے ساتھ موجود خاتون کو ایک میونسپل گارڈ نے حراست میں لے کر پولیس کے حوالے کر دیا۔

پولش حکام کے مطابق اس واقعے سے ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ تقریباً 90 ہزار زلوٹی (تقریباً 20 ہزار یورو) لگایا گیا ہے۔

پولیس کے بیان کے مطابق گرفتار افراد پر عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام میں خلل ڈالنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جبکہ ان میں سے ایک شخص پر منشیات رکھنے کا الزام بھی لگایا جائے گا۔

اسی بنیاد پر شہر کی عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست منظور کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو دو ماہ کے لیے حفاظتی حراست میں جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے