Screenshot
غزہ کے رہائشی فنکاروں نے تباہ شدہ دیواروں پر ہسپانوی فٹبالر لامین یامال اور اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز کے مرالز بنا کر فلسطین کی حمایت پر اسپین کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں اسپین کے ساتھ اظہارِ تشکر اور امید کا پیغام دینا چاہتے تھے۔
یہ اقدام دو بہن بھائیوں، محمود اور لیان القوقعہ نے شروع کیا، جن کی عمریں بالترتیب 24 اور 11 سال ہیں۔ انہوں نے اس منصوبے کے ذریعے فن اور سوشل میڈیا کو ملا کر ایک علامتی تعلق قائم کرنے کی کوشش کی۔ محمود نے ویڈیوز بنا کر انہیں انٹرنیٹ پر شیئر کیا جبکہ لیان نے اپنے انداز میں اس پیغام کو آواز دی۔
محمود کے مطابق، لامین یامال کا مرال غزہ کے بچوں کے خوابوں کی نمائندگی کرتا ہے جو جنگ کے باوجود فٹبال سے محبت کرتے ہیں اور اپنے مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔ جبکہ پیدرو سانچیز کا مرال اسپین کی فلسطین کے لیے حمایت پر اظہارِ تشکر کے طور پر بنایا گیا۔
یہ فن پارے فلسطینی آرٹسٹ اوبے کریم (اوبی) نے بنائے، جنہوں نے اس سے پہلے بھی غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں پر مرالز بنا کر عالمی توجہ حاصل کی تھی۔
لامین یامال غزہ کے لوگوں کے لیے ایک علامت بن گئے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب انہوں نے بارسلونا کی جیت کے بعد فلسطینی پرچم لہرایا۔ دوسری طرف، پیدرو سانچیز عرب دنیا میں فلسطین کی حمایت اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی وجہ سے خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔
اس اقدام پر پیدرو سانچیز نے بھی ردعمل دیا اور سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ “اتنے دکھ کے درمیان آپ نے محبت کا پیغام بھیجا، جس کے لیے ہم شکر گزار ہیں۔ اسپین کے لوگ آپ کو دیکھتے ہیں، سنتے ہیں اور آپ کو نہیں بھولیں گے۔”
غزہ میں جاری جنگ نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بدل کر رکھ دی ہیں۔ ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور بنیادی سہولیات بھی شدید متاثر ہیں۔ ایسے حالات میں بہت سے غزہ کے نوجوان سوشل میڈیا کا سہارا لے کر نہ صرف اپنی آواز دنیا تک پہنچا رہے ہیں بلکہ مالی مدد بھی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
القوقعہ خاندان بھی انہی میں شامل ہے، جن کی آمدنی کا واحد ذریعہ اب سوشل میڈیا اور لوگوں کی جانب سے ملنے والی امداد ہے۔ انہوں نے جنگ میں اپنا گھر کھو دیا اور اب ایک چھوٹے سے کمرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
تمام مشکلات کے باوجود، یہ بہن بھائی اپنے خواب زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں غزہ میں ایک آرٹ اکیڈمی قائم کریں جہاں بچے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں اور ایک بہتر مستقبل کی امید پیدا کر سکیں۔
آخر میں انہوں نے اسپین کے عوام کے لیے پیغام دیا: “ہم آپ کے شکر گزار ہیں کہ آپ نے ہماری آواز سنی اور فلسطین کا ساتھ دیا۔ براہِ کرم غزہ کی حقیقت دنیا تک پہنچاتے رہیں۔ ہم نے بہت کچھ کھو دیا ہے، لیکن ہماری امید ابھی زندہ ہے۔”
