مسجد اقصیٰ کی بندش پر تشویش، عید الفطر تک پابندیاں برقرار رہنے کا امکان
مقبوضہ یروشلم سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کو عید الفطر اور اس کے بعد بھی بند رکھنے کا عندیہ دیا ہے، جس پر فلسطینیوں اور مسلم دنیا میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ یہ مقدس مقام گزشتہ کئی دنوں سے بند ہے اور نمازیوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
ذرائع کے مطابق اسلامی وقف کو حالیہ دنوں میں اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ اسرائیلی حکام نے سیکیورٹی صورتحال کو جواز بنایا ہے، تاہم فلسطینی حلقے اس اقدام کو مذہبی آزادی پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔ 1967 کے بعد پہلی مرتبہ رمضان میں تراویح، اعتکاف اور جمعہ کی نماز پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جسے ایک غیر معمولی اقدام کہا جا رہا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق پرانے شہر میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ داخلی راستوں پر چیک پوسٹس قائم ہیں اور صرف مخصوص افراد کو محدود پیمانے پر داخلے کی اجازت ہے۔ اس صورتحال کے باعث نہ صرف عبادات متاثر ہو رہی ہیں بلکہ مقامی کاروبار بھی شدید مندی کا شکار ہے۔
مسجد اقصیٰ کے امام اور مذہبی رہنماؤں نے اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام عبادت کی آزادی کے خلاف ہے اور اس سے علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب عام فلسطینی شہریوں نے بھی اس بندش پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کیا ہے، خصوصاً رمضان کے مقدس مہینے میں۔
ادھر عرب لیگ نے بھی اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ پابندیاں طویل ہوئیں تو اس کے خطے پر گہرے سیاسی اور مذہبی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔