ہسپانوی بادشاہ فیلیپ ششم کا میکسیکو کی فتح سے متعلق بیان مثبت پیش رفت اور مفاہمت کی جانب ایک قدم ہے،میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام
Screenshot
ہسپانوی بادشاہ فیلیپ ششم کے ایک حالیہ بیان نے میکسیکو کی فتح سے متعلق بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، جب انہوں نے اس عمل کے دوران ہونے والی زیادتیوں کا اعتراف کیا۔
میڈرڈ میں قومی آثارِ قدیمہ کے عجائب گھر میں میکسیکو کی مقامی خواتین سے متعلق ایک نمائش کے دوران بادشاہ نے کہا کہ فتح کے دوران “بہت سی زیادتیاں” ہوئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم ان واقعات کو آج کے معیار اور اقدار کے مطابق دیکھتے ہیں تو ایسی باتیں باعثِ فخر نہیں ہوتیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسپین اور میکسیکو کے تعلقات گزشتہ برسوں میں اس مسئلے پر کشیدہ رہے ہیں۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شینبام نے بادشاہ کے اس بیان کو مثبت پیش رفت اور مفاہمت کی جانب ایک قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ مکمل طور پر وہ سب کچھ نہیں جو میکسیکو چاہتا تھا، لیکن یہ کم از کم زیادتیوں اور قتلِ عام کے اعتراف کی ایک اہم کوشش ہے۔
یاد رہے کہ 1521 میں ٹینوچٹٹلان کا سقوط کے ساتھ ازٹیک سلطنت کا خاتمہ ہوا تھا، جب ہسپانوی فاتح ہرنان کورتیس نے اپنی فوج کے ساتھ اس شہر پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد پورے براعظم میں ہزاروں مقامی افراد مارے گئے، چاہے وہ جنگوں کے ذریعے ہو یا بیماریوں کے باعث۔
اس سے قبل 2019 میں میکسیکو کے سابق صدر آندریس مینوئل لوپیز اوبراڈور نے اسپین سے نوآبادیاتی دور کی زیادتیوں پر باضابطہ معافی کا مطالبہ کیا تھا۔ 2024 میں صدر شینبام نے اسی معاملے پر اختلاف کی وجہ سے بادشاہ کو اپنی حلف برداری کی تقریب میں مدعو بھی نہیں کیا تھا۔
بادشاہ کے حالیہ بیان کو ہسپانوی حکومت کی حمایت حاصل ہے، تاہم ملک کی دائیں بازو کی جماعتوں نے اس پر تنقید کی ہے۔ البرٹو نونیز فیخو نے کہا کہ صدیوں پرانے واقعات کو آج کے معیار سے جانچنا درست نہیں، جبکہ انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس نے فتح کو تاریخ کا ایک عظیم کارنامہ قرار دیا۔
یوں بادشاہ کے اس بیان نے ایک طرف سفارتی تعلقات میں بہتری کی امید پیدا کی ہے، تو دوسری جانب اسپین کے اندر نوآبادیاتی تاریخ پر ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔