امریکہ کے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر نے ایران جنگ پر اختلافات کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

Screenshot

Screenshot

میڈیا رپورٹس کے مطابق، Joe Kent نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے منصب سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے استعفے کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ ایران جنگ کے معاملے پر شدید اختلافات کو قرار دیا۔

اپنے خط میں انہوں نے لکھا کہ وہ “ضمیر کے مطابق” ایران کے خلاف جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق ایران امریکہ کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا، اور یہ جنگ دراصل اسرائیل اور امریکہ میں اس کے بااثر لابی کے دباؤ کے تحت شروع کی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کی پالیسی اپنائی تھی، تاہم اب موجودہ دور میں اس پالیسی سے انحراف کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماضی میں قاسم سلیمانی کے خلاف کارروائی اور داعش کے خلاف آپریشنز محدود اور مخصوص نوعیت کے تھے، نہ کہ طویل جنگوں کا حصہ۔

جو کینٹ نے الزام عائد کیا کہ صدر ٹرمپ اس وقت اسرائیلی حکام اور بعض امریکی میڈیا شخصیات کی جانب سے پھیلائی گئی “غلط معلوماتی مہم” کا شکار ہو گئے ہیں، جس کے ذریعے ایران کو ایک فوری خطرہ ظاہر کیا گیا۔ ان کے مطابق یہی حکمت عملی ماضی میں عراق جنگ کے لیے بھی استعمال کی گئی تھی۔

انہوں نے اپنے خط میں یہ بھی یاد دلایا کہ وہ امریکی فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں اور جنگ میں اپنی اہلیہ کو بھی کھو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسی جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے جس میں امریکی نوجوانوں کو بغیر کسی واضح فائدے کے جانیں قربان کرنی پڑیں۔

آخر میں انہوں نے صدر ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں اور امریکہ کو ایک نئی سمت دیں تاکہ ملک کو مزید نقصان اور انتشار سے بچایا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے