ایران کی حکومت کمزور ضرور ہوئی ہے مگر اب بھی برقرار ہے،امریکی انٹیلیجنس سربراہ

Screenshot

Screenshot

امریکہ کی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ نے کہا ہے کہ ایران کی حکومت حالیہ جنگ کے نتیجے میں کمزور ضرور ہوئی ہے، مگر اب بھی برقرار ہے اور خطے میں اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ واشنگٹن میں سینیٹ انٹیلیجنس کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے بتایا کہ امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے ایرانی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، لیکن نظام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

گبارڈ کے مطابق ایران اور اس کے اتحادی گروہ اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ ایرانی حکومت قائم رہی تو وہ آنے والے برسوں میں اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوشش کرے گی۔

یہ سماعت ایسے وقت میں ہوئی جب ایران کے خلاف جاری جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ نے نہ صرف ہزاروں جانیں لی ہیں بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور معیشت پر بھی گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ امریکی کانگریس کے ارکان، جن میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں شامل ہیں، نے جنگ سے متعلق مزید شفاف معلومات کا مطالبہ کیا ہے۔

ڈیموکریٹک سینیٹر Michael Bennet نے کہا کہ صورتحال میں وضاحت کا فقدان تشویشناک ہے۔ دوسری جانب سی آئی اے کے ڈائریکٹر John Ratcliffe نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران طویل عرصے سے امریکہ کے لیے خطرہ رہا ہے اور حالیہ صورتحال میں بھی فوری خطرہ موجود تھا۔

ادھر نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سربراہ Joe Kent نے جنگ کے خلاف اختلاف کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جو اس تنازع پر پہلا بڑا سرکاری ردعمل سمجھا جا رہا ہے۔

سماعت کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی متضاد بیانات سامنے آئے، جس سے پالیسی اور انٹیلیجنس کے درمیان ابہام مزید بڑھ گیا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان میں اس معاملے پر مزید بحث متوقع ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے