ہسپانوی پارلیمنٹ میں ایک بار پھر سخت سیاسی محاذ آرائی ،پیدروسانچز اور فیخو آمنے سامنے
Screenshot
میڈرڈ/ بدھ کے روز کانگریس کے اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا معاملہ زیر بحث آیا، جس نے ملکی سیاست میں بھی شدت پیدا کر دی۔ حزبِ اختلاف کے رہنما فیخو نے اپنی تقریر کے آغاز میں حکومت کے اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے حکومت کو سہارا دے کر سب کچھ برداشت کیا، مگر نتیجہ صفر نشستوں کی صورت میں نکلا۔
فیخو نے حالیہ کاستیا و لیون کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سمار اور پودیموس کوئی نشست حاصل نہیں کر سکے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم پر براہِ راست تنقید کرتے ہوئے کہا: “آپ دس انتخابات ہار چکے ہیں، آپ ایک ناکام رہنما ہیں اور اپنی پارٹی کو بھی گزشتہ چار سال میں ہر انتخاب میں شکست دلوائی ہے۔”
اس پر وزیرِ اعظم سانچیز نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت نے ہمیشہ سنگین بحرانوں کا مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا: “دنیا اس وقت ایک بڑے بحران سے گزر رہی ہے، اور ہماری حکومت ہمیشہ امن کے حق میں اور جنگ کے خلاف کھڑی رہی ہے، ہم کثیرالجہتی نظام کے حامی ہیں اور اپنی پوزیشن پر قائم ہیں۔”
سانچیز نے مزید کہا کہ حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرے گی، جیسا کہ ماضی میں اقتصادی اقدامات کے ذریعے کیا گیا تھا، اور اب بھی اسرائیل اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے فیخو پر الزام عائد کیا کہ وہ اس مداخلت کے حامی ہیں۔
فیخو نے جواب میں کہا: “آپ کی چالیں کامیاب نہیں ہوں گی، عوام جنگ نہیں چاہتے بلکہ سکون چاہتے ہیں۔ بیس دن گزر چکے ہیں اور آپ نے کچھ نہیں کیا۔”
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت جنگ سے متعلق اقدامات ایک مشترکہ (اومنی بس) فرمان کے ذریعے پارلیمنٹ میں لاتی ہے تو پاپولر پارٹی اس کی حمایت نہیں کرے گی۔
سانچیز نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن پہلے ہی مخالفت کا فیصلہ کر چکی ہے، جیسا کہ وہ ماضی میں بھی ہر بحران کے دوران کرتی آئی ہے۔ انہوں نے فیخو سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری ہے۔