اسپین ایک “وفادار اور قابلِ اعتماد اتحادی” کے طور پر یوکرین کے ساتھ کھڑا رہے گا،سانچز

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ/اسپین کے وزیرِاعظم پیدروسانچز نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کو ایک ارب یورو کی نئی فوجی امداد دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال یوکرین کو نظر انداز کرنے کا باعث نہیں بنے گی۔

میڈرڈ میں واقع Palacio de La Moncloa میں ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کے کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔ اس موقع پر سانچیز نے کہا کہ روس کی “غیر قانونی اور بلا جواز جارحیت” کے باوجود اسپین یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا اور اب تک مجموعی امداد تقریباً چار ارب یورو تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ عالمی توجہ حاصل کر رہی ہے، لیکن یوکرین کی جنگ اب بھی جاری ہے اور انسانی جانوں کا ضیاع ہو رہا ہے۔ سانچیز نے یوکرین کی یورپی یونین میں شمولیت کی بھی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔

دوسری جانب زیلنسکی نے اسپین کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بدستور شدید ہے اور روسی حملوں میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث یوکرین کو ملنے والی فوجی امداد میں کمی کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔

زیلنسکی کے مطابق، دیگر تنازعات کی وجہ سے دفاعی وسائل کی تقسیم متاثر ہو رہی ہے، جس سے یوکرین کے لیے اسلحہ اور میزائلوں کی فراہمی کم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ امداد مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، لیکن اس میں کمی تشویشناک ہے۔

اس موقع پر سانچیز نے یقین دہانی کرائی کہ اسپین ایک “وفادار اور قابلِ اعتماد اتحادی” کے طور پر یوکرین کے ساتھ کھڑا رہے گا، جبکہ توانائی، صنعت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں مزید تعاون بھی بڑھایا جائے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے