یورپی یونین میں ہسپانوی وزیرِاعظم پیدروسانچز کے جنگ مخالف مؤقف کی حمایت بڑھنے لگی

Screenshot

Screenshot

یورپی یونین میں ہسپانوی وزیرِاعظم پیدروسانچز کے جنگ مخالف مؤقف کو بڑھتی ہوئی حمایت حاصل ہونے لگی ہے، جسے اسپین اپنی سفارتی کامیابی قرار دے رہا ہے۔ ہسپانوی وزیر خارجہ خوسے مینوئل الباریس نے کہا ہے کہ یورپ بالآخر بین الاقوامی قوانین کے دفاع میں متحد ہو رہا ہے اور ایسی “یکطرفہ جنگ” کی مخالفت کر رہا ہے جو اس کی اپنی نہیں۔

ابتدائی طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کی مذمت کرنے پر اسپین یورپ میں تنہا نظر آ رہا تھا، جبکہ دیگر ممالک محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں یورپی رہنماؤں کے مؤقف میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اٹلی کی وزیرِاعظم جورجیا میلونی نے بھی اس حملے کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیا ہے۔

متوقع یورپی کونسل اجلاس میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیے جانے کا امکان ہے، جس میں تمام فریقین سے اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی انسانی قوانین کے احترام کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہ اقدام امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی قیادت پر تنقید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

الباریس نے اس بات پر زور دیا کہ حقیقی خارجہ پالیسی وہ ہے جو امن، استحکام اور شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دے۔ ان کے مطابق جنگ کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں عالمی نظام کو نقصان پہنچاتی ہیں اور انتشار کو جنم دیتی ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اس تنازع کے اثرات یورپ تک پہنچ رہے ہیں، جن میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور ممکنہ مہاجرین کا بحران شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں پہلے ہی لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ یورپ کو ہر خطے میں یکساں اصول اپنانے چاہئیں اور شہریوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے