اسپین،اوپن امیگریشن کو محدود کرنے اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت اقدامات سے متعلق ایک اہم قانون منظور
اسپین کے ایوان بالا سینٹ نے اوپن امیگریشن کو محدود کرنے اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت اقدامات سے متعلق ایک اہم قانون منظور کر لیا ہے، جس میں متعدد بار جرائم (ملٹی ری انسیڈینسیا) کے خلاف شقیں شامل ہیں۔ اس قانون کے ساتھ پاپولر پارٹی کی ایک متنازع ترمیم بھی شامل کی گئی ہے، جس کا مقصد مہاجرین کی قانونی حیثیت دینے کے عمل کو مزید سخت بنانا ہے۔
بدھ کے روز منظور ہونے والے اس بل پر ابتدا میں (سوشلسٹ پارٹی)، پی پی، جنتس اور پی این وی کے درمیان اتفاق رائے موجود تھا، تاہم سینیٹ میں پی پی کی اکثریت کے باعث قانون میں ایک اہم تبدیلی شامل کر دی گئی۔ اس ترمیم کے تحت اب کسی بھی مہاجر کو اپنی ریگولرائزیشن کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کا نہ صرف اسپین بلکہ ان تمام ممالک میں بھی کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں جہاں وہ پہلے مقیم رہا ہو، اور یہ ثبوت صرف سرکاری سرٹیفکیٹ کے ذریعے ہی قابل قبول ہوگا۔
نئے قانون میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر متعلقہ ممالک کی جانب سے مجرمانہ ریکارڈ کی تصدیق نہ ملے تو درخواست دہندہ ذاتی حلفیہ بیان دے کر اس خلا کو پُر نہیں کر سکے گا۔ اس کے برعکس، حکومت کے پہلے سے مجوزہ طریقہ کار میں یہ گنجائش موجود تھی کہ اگر ایک ماہ تک جواب نہ آئے تو انتظامیہ خود تصدیق مکمل کرے گی اور آخرکار درخواست دہندہ کا بیان بھی قابل قبول ہوگا۔
پی پی اس پالیسی کی ابتدا ہی سے مخالف رہی ہے۔ پارٹی کی رہنما Cuca Gamarra نے پارلیمان میں بحث کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ اجتماعی ریگولرائزیشن سے مجرموں کو بھی قانونی حیثیت مل سکتی ہے، جو کہ خطرناک مثال بنے گی۔
دوسری جانب سوشلسٹ نے اس ترمیم کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام مہاجرت کو جرم کے طور پر پیش کرنے کے مترادف ہے۔ پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ جب یہ بل دوبارہ کانگریس میں پیش ہوگا تو وہ اس متنازع ترمیم کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔