ایران جنگ کے تناظر میں یورپ کو نئے مہاجر بحران کا خدشہ، ڈنمارک اور اٹلی کا ہنگامی اقدامات کا مطالبہ
Screenshot
ڈنمارک اور اٹلی نے یورپی یونین کو خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث ایک نیا مہاجر بحران جنم لے سکتا ہے، اس لیے فوری امداد اور پیشگی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی اور ڈنمارک کی وزیر اعظم Mette Frederiksen نے مشترکہ طور پر یورپی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ خطے کے متاثرہ ممالک کے لیے 458 ملین یورو کا امدادی پیکج منظور کیا جائے تاکہ لوگوں کو ہجرت پر مجبور ہونے سے روکا جا سکے۔
دونوں رہنماؤں نے اپنے خط میں واضح کیا کہ یورپ 2015-2016 جیسی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا، جب شام کی جنگ کے باعث لاکھوں مہاجرین یورپی ممالک میں داخل ہوئے تھے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات نہ صرف انسانی بحران کو جنم دے سکتے ہیں بلکہ یورپی یونین کی سلامتی اور اتحاد کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ امداد کا مقصد متاثرہ ممالک کو اپنے ہاں بے گھر افراد کی مدد کے قابل بنانا ہونا چاہیے، خاص طور پر اس تنازع کے بعد جو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے سرحدی کنٹرول مزید سخت کرنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ادھر اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین UNHCR نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں انسانی ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان Stéphane Dujarric کے مطابق لبنان میں حالیہ جھڑپوں کے باعث لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ ایران میں بھی بڑی تعداد میں لوگ محفوظ مقامات کی تلاش میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو یورپ کو ایک بار پھر بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے لیے فوری اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔