بین الاقوامی قانون کے تحفظ کے لیے سپین کی نئی کثیر الجہتی حکمتِ عملی متعارف

Screenshot

Screenshot

سپین، وزارتِ خارجہ نے “کثیر الجہتی پالیسی حکمتِ عملی” کا آغاز کر دیا، جس کا مقصد بین الاقوامی قانون پر حملوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

وزیرِ خارجہ خوسے مینوئل البارئیس نے منگل کے روز وزراء کونسل کے اجلاس میں پائیدار ترقی کے لیے کثیر الجہتی پالیسی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ موجودہ حالات میں، جہاں بین الاقوامی قانون، کثیر الجہتی نظام اور ترقیاتی تعاون کو چیلنجز درپیش ہیں، ہسپانوی حکومت کا ایک جامع جواب ہے۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “ایک ایسے وقت میں جب بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں عام ہو چکی ہیں اور یکطرفہ اقدامات اور جنگ کو خارجہ پالیسی کے مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے، کثیر الجہتی نظام کا دفاع انتہائی ضروری ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “طاقت کے قانون کے مقابلے میں سپین ایک متبادل راستہ پیش کرتا ہے۔ من مانی کے بجائے ہم کثیر الجہتی نظام کو ترقی، عالمی چیلنجز سے نمٹنے اور تنازعات کے پرامن حل کا ذریعہ سمجھتے ہیں، اسی لیے آج یہ حکمتِ عملی پیش کی جا رہی ہے۔”

وزیر کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی قانون، کثیر الجہتی نظام اور ترقیاتی تعاون کے خلاف بڑھتے ہوئے چیلنجز کے تناظر میں ایک جامع حکومتی ردعمل ہے۔ اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہسپانوی تعاون ایک ایسے عالمی نظام کے قیام میں کردار ادا کرے جو جمہوریت، انسانی حقوق، مساوات اور شمولیت کو یقینی بنائے، جو دراصل امن کی بنیادیں ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق اس حکمتِ عملی کا مقصد سپین کی حیثیت کو ایک ایسے ملک کے طور پر مزید مضبوط کرنا ہے جو کثیر الجہتی نظام اور عالمی یکجہتی کے لیے پُرعزم ہے، اور یہ کثیر الجہتی نظام کو درپیش بحران کے لیے ایک اسٹریٹجک جواب بھی فراہم کرتی ہے۔

اس حکمتِ عملی کے تین بنیادی ستون ہیں: غربت اور عدم مساوات کا خاتمہ، ماحولیاتی اقدامات اور زمین کا تحفظ، اور خوراک کی فراہمی، صحت اور باوقار روزگار کو یقینی بنانا۔

اسی طرح اس میں تین اہم اہداف بھی شامل ہیں: شفاف اور جامع عالمی حکمرانی کو فروغ دینا، کثیر الجہتی نظام کی مؤثریت اور ہم آہنگی کو بہتر بنانا تاکہ 2030 ایجنڈا کے اہداف حاصل کیے جا سکیں، اور ہسپانوی ترقیاتی اداروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا تاکہ عالمی سطح پر ان کے اثرات میں اضافہ ہو۔

آخر میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ حکمتِ عملی سپین کی خارجہ پالیسی میں ایک اور اہم قدم ہے، جو گزشتہ سال منظور کیے گئے کثیر الجہتی نظام اور ترقیاتی مالی معاونت کے منصوبے کو عملی شکل دیتی ہے۔ انہوں نے اس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے معاشی و عوامی اثرات کے تناظر میں یہ اقدام خاص طور پر ضروری ہو گیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے