اسرائیل لبنان میں غزہ جیسی تباہی پھیلانا چاہتا ہے،پیدروسانچز

Screenshot

Screenshot

سپین کے وزیرِ اعظم پیدروسانچز نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں بھی وہی سطح کی تباہی اور نقصان پہنچانا چاہتا ہے جیسا کہ غزہ میں کیا گیا۔

بدھ کے روز پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی مخالف ہے، اور یہ صورتحال 2003 میں عراق جنگ سے بھی کہیں زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا“یہ غیر قانونی عراق جنگ جیسا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ہم اس سے کہیں زیادہ سنگین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے اثرات زیادہ وسیع اور گہرے ہو سکتے ہیں۔”

سانچز نے مزید کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبی خامنائی اپنے والد سے بھی زیادہ سخت گیر ہیں، اور انہیں “زیادہ خونخوار آمر” قرار دیا۔

سپین کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیرِ اعظم یورپ کے ان چند رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کو “بلا جواز” قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں تقریباً 30 کلومیٹر تک علاقے پر قبضے کی تیاریوں پر عالمی سطح پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

کینیڈا نے خبردار کیا ہے کہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔

جبکہ فرانس کے وزیرِ خارجہ نے اسرائیل کو جنوبی لبنان پر قبضے کے منصوبے سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے شہریوں پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے