بارسلونا سے غزہ کے لیے “گلوبل صمود فلوٹیلا” دوبارہ روانہ ہوگا، زیادہ جہاز اور شرکاء شامل ہوں گے
Screenshot
گلوبل صمود فلوٹیلا 12 اپریل کو ایک بار پھر بارسلونا سے روانہ ہوگا، منتظمین نے بدھ کے روز اعلان کیا۔ اس مشن کا مقصد غزہ تک انسانی امداد پہنچانا ہے، اور اس بار گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ افراد اور زیادہ جہاز شامل ہوں گے۔
منتظمین کے مطابق اس مہم میں 100 سے زائد جہاز اور تقریباً 3,000 شرکاء حصہ لیں گے، جو 100 ممالک سے تعلق رکھتے ہوں گے، جن میں ڈاکٹرز، اساتذہ اور محققین شامل ہیں۔
فلوٹیلا کے کوآرڈینیٹر Saif Abukeshek نے کہا“جبر کے اس دور میں ہم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر واپس آئیں گے اور اپنی جدوجہد کو مزید آگے بڑھائیں گے۔”
انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ فلوٹیلا کو اسرائیلی فوج نے روک لیا تھا۔
کاتالونیا کی ریسکیو این جی او Open Arms بھی اس مہم میں شامل ہوگی اور تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔ ادارے کے آپریشنز کے سربراہ Gerard Canals نے کہا کہ روانگی کی اجازت میڈرڈ حکومت سے مشروط ہے۔
انہوں نے مزید کہا“ہم بے عملی کو قبول نہیں کرتے اور نہ ہی انسانی تکلیف کو معمول بنا سکتے ہیں۔”
11 اپریل کو روانگی سے قبل ایک بڑا پروگرام منعقد ہوگا، جبکہ اگلے دن بارسلونا کی بندرگاہ سے فلوٹیلا روانہ ہوگی۔
گزشتہ مشن کی رکن Ariadna Masmitjà نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان سرگرمیوں میں شرکت کریں اور مالی تعاون فراہم کریں۔ انہوں نے کہا“کاتالونیا اور بارسلونا ہمیشہ کی طرح فلسطین اور امن کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں گے۔”
منتظمین کے مطابق اس سفر میں مکمل سیکیورٹی کی کوئی ضمانت نہیں ہے، کیونکہ اسرائیلی اقدامات جاری ہیں۔ تاہم انہیں امید ہے کہ وہ غزہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوں گے اور ناکہ بندی کو توڑ سکیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال 31 اگست کو روانہ ہونے والی پہلی فلوٹیلا کو 2 اکتوبر کو اسرائیل نے روک لیا تھا۔ اس مہم میں 43 جہاز، 500 افراد اور 48 ممالک کے شرکاء شامل تھے، جن میں سابق میئر Ada Colau اور معروف ماحولیاتی کارکن Greta Thunberg بھی شامل تھیں۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ گزشتہ تجربے سے انہیں سمندر میں کام کرنے اور ممکنہ فوجی مداخلت کا سامنا کرنے کا بہتر طریقہ سیکھنے کا موقع ملا۔