وقت کی تبدیلی کے بعد کاتالونیا میں دن لمبے: گھڑیاں آگے، نظام ختم ہونے کا امکان

Screenshot

Screenshot

اسپین میں بہار کی آمد کے ساتھ روایتی طور پر وقت کی تبدیلی ایک بار پھر نافذ ہو رہی ہے۔ مارچ کے آخری اتوار کو گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی جائیں گی، یعنی رات دو بجے کے بجائے سیدھا تین بج جائیں گے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں دن لمبے اور شامیں روشن ہو جائیں گی، جبکہ ایک گھنٹہ نیند کم ہو جائے گی۔

کاتالونیا کے مختلف شہروں میں اس تبدیلی کے بعد سورج کے طلوع اور غروب کے اوقات بھی بدل جائیں گے۔ بارسلونا میں سورج صبح 7 بج کر 40 منٹ پر طلوع اور شام 8 بج کر 13 منٹ پر غروب ہوگا۔ جرونا میں یہ عمل قدرے پہلے ہوگا، جبکہ تاراگونا اور لیلدا میں چند منٹ کا فرق رہے گا۔ اس طرح پورے خطے میں شام کا وقت نمایاں طور پر طویل ہو جائے گا۔

یہ روایت 1916 سے جاری ہے، مگر اب اس کے خاتمے پر سنجیدہ بحث ہو رہی ہے۔ وزیر اعظم پیدروسانچز نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ سال میں دو بار گھڑیاں بدلنے کا سلسلہ ختم کیا جائے، کیونکہ اس کے فوائد محدود اور نقصانات زیادہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق بار بار وقت بدلنے سے انسانی نیند اور جسمانی نظام متاثر ہوتا ہے۔

یورپین کمیشن بھی اس معاملے پر غور کر رہی ہے اور رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش جاری ہے۔ موجودہ شیڈول کے مطابق اکتوبر 2026 میں آخری بار وقت تبدیل کیا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔

یاد رہے کہ دن اور رات کے دورانیے میں تبدیلی اصل میں زمین کے محور کے جھکاؤ اور سورج کے گرد اس کی گردش کی وجہ سے ہوتی ہے، جبکہ گھڑیوں کی تبدیلی صرف انسانی نظام کو اس کے مطابق ڈھالنے کی ایک کوشش ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے