اسپین: کم عمر لڑکی نولییا کاستیو کو ایتھینیشیا کی اجازت، آج شام عملدرآمد متوقع
Screenshot
اسپین کے علاقے کاتالونیا میں ایک غیر معمولی اور حساس معاملے میں نولییا کاستیو راموس نامی نوجوان لڑکی کو ایتھینیشیا (رحم دلانہ موت) دینے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ محکمۂ صحت نے اس عمل کے لیے جمعرات کی شام 6 بجے کا وقت مقرر کیا ہے، جس کے بعد وہ اسپین کی سب سے کم عمر فرد بن جائیں گی جنہیں قانونی طور پر یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ عمل بارسلونا کے قریب سانت پیری دے ریبس کے سانت کامیِل اسپتال میں مکمل کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق ایتھینیشیا کا طریقہ کار تقریباً 15 منٹ پر مشتمل ہوگا، جس میں تین مخصوص ادویات دی جائیں گی۔ نولییا نے اپنی ذاتی خواہش کے تحت فیصلہ کیا ہے کہ اس کے والدین اس موقع پر موجود نہ ہوں۔
نولییا گزشتہ کئی ماہ سے اسپتال میں زیر علاج تھیں اور شدید جسمانی معذوری، خاص طور پر فالج (پیرالیسس) کا شکار تھیں، جس کے باعث وہ خود سے زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہیں۔ ان کی درخواست پر قانونی اور طبی مراحل مکمل کیے گئے، جن میں متعدد ماہرینِ نفسیات کے جائزے بھی شامل تھے۔ ماہرین نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ وہ اپنے فیصلے کی مکمل ذہنی صلاحیت رکھتی ہیں۔
دوسری جانب، ایک مذہبی وکلا تنظیم نے، جو نولییا کے والد کی نمائندگی کر رہی تھی، عدالت میں اس فیصلے کے خلاف کئی درخواستیں دائر کیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ نولییا ذہنی طور پر متاثر ہیں، تاہم عدالتوں نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے ایتھینیشیا کی اجازت برقرار رکھی۔
یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی سطح پر بھی شدید بحث کا باعث بنا ہوا ہے، جہاں ایک طرف فرد کے حقِ انتخاب کو اہمیت دی جا رہی ہے، وہیں دوسری جانب اس فیصلے پر اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔