نیٹو میں شمولیت قومی خودمختاری کو نقصان نہیں پہنچاتی، مگر زیادہ خودمختاری کی حمایت،سانچیز کا پودیموس کو جواب
Screenshot
اسپین کے وزیرِاعظم پیدروسانچز نے پودیموس، بلدو اور بی این جی کے رہنماؤں کے سامنے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو (NATO) میں رہنا “قومی خودمختاری کو کمزور نہیں کرتا”۔ انہوں نے امریکہ سے تعلقات ختم کرنے کے مطالبے کو مسترد کیا، تاہم اس بات سے اتفاق کیا کہ اسٹریٹیجک خودمختاری میں اضافہ ضروری ہے۔
انہوں نے کہا“یہ واضح ہے، اور ہم نے ثابت بھی کیا ہے، کہ نیٹو کی رکنیت ہماری قومی خودمختاری کی صلاحیت کو کم نہیں کرتی۔”
یہ بیان انہوں نے بلدو کی ترجمان میرچے آئزپوروا کے سوال کے جواب میں دیا، جنہوں نے نیٹو کو امریکہ اور “ٹرمپ ازم” کے مفادات کی خدمت کرنے والی تنظیم قرار دیا تھا۔
اسی طرح، جب پودیموس کی رہنما آئونے بیلارا نے نیٹو پر ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا تو سانچیز نے واضح کیا کہ حکومت کی پوزیشن یہ ہے کہ“ہم نیٹو کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی خودمختاری استعمال کرتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اسپین ایک درمیانی طاقت کے طور پر ایک بڑے یورپی منصوبے کا حصہ ہے، جو کثیرالجہتی اور امن پسند نوعیت رکھتا ہے۔
اگرچہ انہوں نے امریکہ سے تعلقات توڑنے کی مخالفت کی، لیکن اس بات پر زور دیا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیشِ نظر اسٹریٹیجک خودمختاری کو بڑھانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسپین کے درمیان سرمایہ کاری کا بہاؤ بہت اہم ہے کیونکہ اس سے روزگار اور معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کے بجائے“ہمیں ان کے ساتھ پل تعمیر کرنے چاہئیں، نہ کہ انہیں توڑنا چاہیے۔”
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دفاعی اور سیکیورٹی کے صنعتی منصوبے کے تحت خرچ ہونے والی رقم کا بڑا حصہ اسپین اور یورپ کی صنعتوں پر لگایا جا رہا ہے، جس سے یورپی خودمختاری مضبوط ہو رہی ہے۔