حکومت نے پی پی کی مہاجرین کی رجسٹریشن روکنے کی ترمیم مسترد کر دی

Screenshot

Screenshot

اسپین میں حکومت نے اپوزیشن جماعت پاپولر پارٹی (پی پی) کی اس ترمیم کو ناکام بنا دیا ہے جس کا مقصد مہاجرین کی قانونی رجسٹریشن کے عمل کو مزید سخت بنانا تھا۔ پارلیمنٹ کی مجلسِ انتظامیہ نے دو اہم ترامیم کو مسترد کر دیا، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ان سے ریاستی اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

وزیر اعظم پیدروسانچز نے آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے ان ترامیم پر ویٹو لگا دیا تھا۔ ان میں سے ایک ترمیم، جو پی پی اور ووکس کے درمیان طے پائی تھی، کے تحت مہاجرین کو ہر اس ملک سے عدمِ جرائم کا سرکاری سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا جہاں وہ ماضی میں مقیم رہے ہوں۔ اس کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر درخواست گزار کے بارے میں سیکیورٹی رپورٹ تیار کرنے کی بھی شرط شامل تھی۔

حکومت کے مطابق اس نظام پر عمل درآمد کے لیے تقریباً 400 نئے اہلکاروں کی بھرتی درکار ہوتی اور اس پر قریب 17 ملین یورو خرچ آتا، جو کہ بجٹ میں اضافے کا باعث بنتا۔ دوسری ترمیم میں نئے سرکاری وکلاء کی تعیناتی شامل تھی، جس سے اخراجات مزید بڑھتے۔

اس سے قبل اسپین سینٹ میں بھی حکومت نے ان ترامیم کو روکنے کی کوشش کی تھی، تاہم وہاں اپوزیشن اکثریت نے انہیں منظور کر لیا تھا۔ اب کانگریس میں حتمی مرحلے پر انہیں دوبارہ مسترد کر دیا گیا، جس سے ایک ممکنہ سیاسی کشیدگی بھی ٹل گئی۔

یہ قانون، جس کی منظوری متوقع ہے، چوری کے جرائم کے خلاف سخت اقدامات متعارف کراتا ہے۔ نئے قواعد کے تحت بار بار چوری کرنے والوں کے لیے سزائیں بڑھا دی گئی ہیں، خاص طور پر موبائل فون چوری کے کیسز میں زیادہ سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے