اسپین میں خوراک کی صنعت کی عالمی نمائش: بیرونِ گھر کھانے پر 43.5 ارب یورو خرچ، ڈیلیوری سروس میں کمی
بارسلونا میں جاری Alimentaria+Hostelco 2026 کے دوران سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق اسپین میں شہری ہر سال گھروں سے باہر کھانے، پینے یا ہلکی غذا پر تقریباً 43.5 ارب یورو خرچ کرتے ہیں، جو 7.2 ارب سے زائد مواقع پر مشتمل ہے۔ ایک ہسپانوی شہری اوسطاً سال میں 152 مرتبہ باہر کھانے پینے کا انتخاب کرتا ہے، جو یورپ میں نمایاں شرح ہے۔ حالانکہ ریستوران کے اندر کھانا اب بھی ترجیح ہے، ٹیک اوے یا کھانا ساتھ لے جانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن ہوم ڈیلیوری سروس میں 7 فیصد کمی دیکھی گئی، جس کے پیچھے سخت ضوابط اور لیبر قوانین کو اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 25 فیصد کھانے پینے کے مواقع روایتی ریستورانوں کے باہر پورے کیے جاتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقابلہ صرف ہوٹلنگ انڈسٹری تک محدود نہیں رہا بلکہ سپر مارکیٹس اور دیگر متبادل ذرائع بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین توقع کرتے ہیں کہ 2026 میں مجموعی شعبے میں معمولی اضافہ ہوگا، لیکن اصل ترقی غیر روایتی ذرائع اور منفرد صارف تجربات پیش کرنے والے ریستورانوں میں ہوگی۔
اس سال کی اشیائے خوردونوش کی نمائش اپنے سب سے زیادہ بین الاقوامی ایڈیشن پر ہے، جہاں 3,300 کمپنیاں، جن میں سے 1,200 غیر ملکی ہیں، 70 ممالک سے شریک ہیں۔ میلے کا افتتاح بادشاہ فلیپے ششم نے کیا اور وزرائے زراعت لیوس پلانس اوراوسکر اودنگ کے ساتھ کاتالونیا کے صدر سلوادور اییا بھی شریک ہوئے۔ یہ ایونٹ تقریباً 180 ملین یورو کا معاشی اثر پیدا کرے گا اور مستقبل کے غذائی رجحانات، مصنوعی ذہانت پر مبنی ذاتی خوراک اور فنگشنل مصنوعات پر روشنی ڈالے گا۔
جدت پر خاص توجہ Innoval میں 300 نئی مصنوعات، اسٹارٹ اپس اور AI کی مدد سے ذاتی نوعیت کی خوراک، حشرات سے حاصل شدہ پروٹین، عمودی زراعت، اور پروٹین اسنیکس پر ہے۔ اس کے علاوہ بیکری، پیسٹری، چاکلیٹ، آئس کریم اور کافی کے شعبوں میں بھی نئے رجحانات پیش کیے گئے ہیں۔ اس بار اعزازی ملک پولینڈ ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ نمائش میں 110,000 سے زائد زائرین شرکت کریں گے، جن میں 25 فیصد بین الاقوامی ہوں گے۔
اس نمائش سے نہ صرف اسپین کی فوڈ انڈسٹری کی موجودہ صورتحال سامنے آتی ہے بلکہ یہ مستقبل کے خوراک کے رجحانات، صارفین کی نئی عادات اور غذائی جدت کے امکانات کی بھی جھلک پیش کرتی ہے۔