آسٹریا میں 14 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی تجویز، ساتھ ہی تعلیم میں AI کی تربیت شامل کرنے کا منصوبہ
Screenshot
آسٹریا کی وفاقی حکومت نے جمعہ کے روز اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ ایک ایسی قانون سازی پر کام شروع کرے گی جس کے تحت 14 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ثانوی تعلیم کے نصاب میں اصلاحات کرتے ہوئے میڈیا لٹریسی (ذرائع ابلاغ کی سمجھ) اور مصنوعی ذہانت (AI) کی تعلیم کو بھی بڑھایا جائے گا۔
نائب چانسلر، آندریاس بابلر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ“جو چیزیں ہم اپنے بچوں کے لیے حقیقی زندگی میں برداشت نہیں کرتے، وہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی قبول نہیں ہونی چاہئیں۔ سوشل میڈیا پر بچوں کو غیر حقیقی حسن کے معیار، تشدد کی ترویج، غلط معلومات اور ذہنی اثراندازی جیسے خطرات کا سامنا ہوتا ہے، جبکہ بڑی کمپنیاں صرف منافع کے پیچھے بھاگتی ہیں اور بچوں کے مستقبل کو نظر انداز کرتی ہیں۔”
ڈیجیٹلائزیشن کے سیکریٹری آف اسٹیٹ، الیگزینڈر پروئل نے بتایا کہ ایک عام نوجوان روزانہ 6 سے 7 گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتا ہے۔ ان کے مطابق شدت پسندی اور نفرت انگیزی تیزی سے انہی پلیٹ فارمز کے ذریعے پھیلتی ہے۔
وزیر تعلیم، کرسٹوف ویڈرکیر نے کہا کہ صرف پابندی کافی نہیں، اس لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل دنیا میں بہتر طریقے سے جینے کے لیے مہارتیں بھی سکھائی جائیں۔ اس مقصد کے لیے سیکنڈری سطح پر “میڈیا اور جمہوریت” کے نام سے ایک نیا مضمون متعارف کرانے کی تجویز ہے، جس میں طلبہ کو یہ سکھایا جائے گا کہ میڈیا رائے عامہ کو کیسے متاثر کرتا ہے، غلط معلومات کو کیسے پہچانا جائے اور شدت پسندی سے کیسے بچا جائے۔
اسی طرح “انفارمیٹکس اور مصنوعی ذہانت” کے مضمون کو بھی بڑھا کر ہفتے میں تین گھنٹے کیا جائے گا، تاکہ طلبہ کو AI کے سماجی اثرات سمیت دیگر اہم پہلوؤں سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس کے لیے لاطینی زبان کے مضمون کے اوقات میں کمی کی تجویز دی گئی ہے، جس پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔
اپوزیشن اور بعض تنظیموں نے اس منصوبے پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ فریڈم پارٹی کے رہنما کرسچین ہافنیکر نے اسے “آمرانہ سوچ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نوجوانوں کی آزادی اظہار پر حملہ ہے۔
دوسری جانب، یونیسف آسٹریا نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر مکمل پابندی الٹا نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس سے کچھ بچے معلومات، دوستی اور مدد کے ایسے ذرائع سے محروم ہو سکتے ہیں جو انہیں کہیں اور دستیاب نہیں ہوتے، خاص طور پر وہ بچے جو پہلے ہی معاشرتی طور پر الگ تھلگ ہیں۔
یونیسف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ صرف پابندیوں کے بجائے محفوظ اور بچوں کے لیے موزوں سوشل میڈیا ماحول بنانے پر توجہ دے، جس میں بہتر مواد کی نگرانی، حفاظتی ترتیبات اور عمر کے مطابق ڈیزائن شامل ہوں۔
حکومت کو توقع ہے کہ اس قانون کا مسودہ جون کے آخر تک تیار ہو جائے گا، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ کن پلیٹ فارمز پر پابندی ہوگی یا عمر کی تصدیق کا نظام کیسے نافذ کیا جائے گا۔