جنگ کے بعد ایران مزید سخت گیر، بند اور مذاکرات سے دور ہو گیا

Screenshot

Screenshot

ایران میں ایک ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد ملک کی سیاسی اور عسکری صورتحال میں بڑی تبدیلی آ چکی ہے، اور ماہرین کے مطابق اسلامی جمہوریہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت گیر، بند اور جارحانہ ہو گئی ہے۔ اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت، بشمول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، ہلاک ہو گئے، جس کے بعد نئی قیادت سامنے آئی ہے۔

اب علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر بنایا گیا ہے، جبکہ فوج، پاسدارانِ انقلاب اور قومی سلامتی کے اہم عہدوں پر بھی نئی شخصیات تعینات کی گئی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں ایران میں “رجیم چینج” آ چکا ہے، تاہم زمینی حقائق اس دعوے سے مختلف نظر آتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قیادت کی اس تبدیلی نے ایران کو کمزور کرنے کے بجائے مزید سخت بنا دیا ہے۔ اب نظام ایک فرد کے بجائے مختلف طاقتور حلقوں پر مشتمل ہو چکا ہے، جو مل کر فیصلے کرتے ہیں۔ اس نئے ڈھانچے کو “موزیک نظام” کہا جا رہا ہے، جس میں پاسدارانِ انقلاب مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی قیادت خاص طور پر نوجوان کمانڈروں پر مشتمل ہے جو زیادہ قوم پرست، نظریاتی اور بیرونی دنیا کے حوالے سے سخت موقف رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گئے ہیں۔

امریکا اور اسرائیل کے لیے ایک اور بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ماضی میں جو ایرانی رہنما مذاکرات کے حامی تھے، وہ اب موجود نہیں رہے۔ اس کے نتیجے میں سفارتی راستے محدود ہو گئے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات بھی کم دکھائی دیتے ہیں۔

یوں جنگ کے بعد ایران نہ صرف اندرونی طور پر زیادہ منظم ہوا ہے بلکہ اس کا رویہ بھی مزید سخت اور غیر لچکدار ہو گیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے