اسپین: تارکینِ وطن کی ریگولرائزیشن کیلئے کافی وقت دینے کی یقین دہانی

Screenshot

Screenshot

میڈرڈ: اسپین کی حکومت نے غیر قانونی حیثیت میں مقیم تارکینِ وطن کے لیے شروع کیے جانے والے غیر معمولی ریگولرائزیشن عمل کے حوالے سے اطمینان دلاتے ہوئے کہا ہے کہ درخواستوں کی جمع آوری اور پراسیسنگ کے لیے مناسب اور کافی وقت فراہم کیا جائے گا۔

حکومتی ترجمان اور وزیر برائے شمولیت، سوشل سکیورٹی و مہاجرت ایلما سائز نے وزراء کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت طے شدہ شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ انہوں نے حتمی تاریخ دینے سے گریز کیا، تاہم واضح کیا کہ عمل اس وقت کونسل آف اسٹیٹ میں زیر غور ہے اور جلد باضابطہ آغاز متوقع ہے۔ ابتدائی اعلان کے مطابق یہ عمل اپریل کے آغاز سے شروع ہو کر 30 جون تک جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو “اطمینان کا پیغام” دیا جا رہا ہے تاکہ کوئی بھی اہل شخص اس عمل سے محروم نہ رہے۔ اس ریگولرائزیشن کے تحت کامیاب درخواست گزاروں کو اسپین میں ایک سال کے لیے رہائش اور کام کی اجازت دی جائے گی، جس کے بعد وہ امیگریشن کے مستقل نظام میں شامل ہو سکیں گے۔

وزارت کے مطابق اس پروگرام سے وہ تمام غیر ملکی فائدہ اٹھا سکیں گے جو 31 دسمبر 2025 سے پہلے اسپین میں موجود تھے اور کم از کم پانچ ماہ مسلسل قیام کا ثبوت فراہم کر سکتے ہیں۔ یہ ثبوت سرکاری یا نجی دستاویزات کے ذریعے دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پناہ کے درخواست گزاروں کے لیے ضروری ہوگا کہ انہوں نے مقررہ تاریخ سے پہلے درخواست جمع کرائی ہو۔

حکام نے واضح کیا کہ درخواست دہندگان کا مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونا اور عوامی سلامتی کے لیے خطرہ نہ ہونا لازمی شرط ہے۔ اس اقدام کا مقصد خاص طور پر ان افراد کو قانونی دائرے میں لانا ہے جو طویل عرصے سے اسپین میں رہ رہے ہیں مگر مختلف وجوہات کی بنا پر ریگولرائز نہیں ہو سکے۔

مزید برآں، اس عمل کے تحت درخواست گزاروں کے نابالغ بچوں کو بھی شامل کیا جائے گا، جنہیں پانچ سال کے لیے رہائش کا اجازت نامہ دیا جائے گا، جس سے خاندانوں کے استحکام اور سماجی انضمام کو فروغ ملے گا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے