پوپ لیو نے ٹرمپ سے ایران جنگ ختم کرنے کے لیے راستہ نکالنے کی اپیل کی
Screenshot
پوپ لیو XIV نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منگل کے روز اپیل کی کہ وہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی راستہ تلاش کریں۔ یہ ایک غیر معمولی براہِ راست اپیل ہے، کیونکہ جیسے جیسے علاقائی تنازعہ پھیل رہا ہے، ویٹی کن کی جانب سے اس نوعیت کا بیان کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
اٹلی کے مقام Castel Gandolfo میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پوپ نے کہا“مجھے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ اس جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ امید ہے کہ وہ اس سے نکلنے کا کوئی راستہ تلاش کر رہے ہیں، اور تشدد کو کم کرنے کا طریقہ ڈھونڈ رہے ہیں۔”
پوپ لیو، جو الفاظ کے محتاط استعمال کے لیے جانے جاتے ہیں، شاذ و نادر ہی عالمی رہنماؤں کو براہِ راست مخاطب کرتے ہیں، لیکن حالیہ ہفتوں میں انہوں نے ایران جنگ پر اپنی تنقید میں اضافہ کیا ہے۔
اتوار کے روز اپنے غیر معمولی سخت بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ خدا ان رہنماؤں کی دعائیں قبول نہیں کرتا جن کے “ہاتھ خون سے رنگے ہوں” اور جو جنگیں شروع کرتے ہیں۔
یہ ایک ماہ پر محیط تنازعہ، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں سے شروع ہوا، اب پورے خطے میں پھیل چکا ہے۔ اس جنگ میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور عالمی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
پوپ نے منگل کو ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امید ہے کہ 5 اپریل کو ایسٹر سے پہلے تشدد ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا“بہت زیادہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جن میں معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ ہمیں مسلسل امن کی اپیل کرتے رہنا چاہیے۔”
مزید کہا“بہت سے لوگ ایسے ہیں جو لڑائی، تشدد اور جنگ کو فروغ دیتے ہیں۔”