پیدروسانچزنے فٹبال میچ کے دوران اسلاموفوبک اور زینوفوبک گالیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں “ناقابلِ قبول” قرار دیا
Screenshot
ہسپانوی وزیرِاعظم پیدروسانچز نے اسپین اور مصر کے درمیان کھیلے گئے فٹبال میچ کے دوران ہونے والی اسلاموفوبک اور زینوفوبک (غیر ملکیوں کے خلاف) گالیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں “ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے۔
وزیرِاعظم نے بدھ کے روز کہا کہ منگل کو کورنیلا میں پیش آنے والا یہ واقعہ ناقابلِ قبول ہے اور اسے دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (Twitter) پر اپنے پیغام میں کہا“ہم کسی غیر مہذب اقلیت کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اسپین جیسے کثیر الثقافتی اور برداشت والے ملک کی ساکھ کو خراب کرے۔ قومی فٹبال ٹیم اور اس کے مداح بھی اسی اصول پر قائم ہیں۔”
انہوں نے متاثرہ کھلاڑیوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور ان لوگوں کو سراہا جو احترام کے ذریعے اسپین کو بہتر ملک بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب وزیرِ تعلیم، پیشہ ورانہ تربیت اور کھیل Milagros Tolón نے کہا کہ کھیل صرف محنت، لگن اور صلاحیت کا نام نہیں بلکہ احترام، یکجہتی اور باہمی ہم آہنگی بھی اس کا حصہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نفرت، نسل پرستی اور زینوفوبیا کا کھیلوں کے میدانوں یا معاشرے میں کوئی مقام نہیں۔
حکومتی حلقوں نے بھی ان رویوں کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسپین کے زیادہ تر شائقین کی نمائندگی نہیں کرتے، جو کھیل کو احترام اور ہم آہنگی کے جذبے کے ساتھ دیکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں، وزیر برائے علاقائی پالیسی Ángel Víctor Torres نے کہا کہ نفرت اور نسل پرستی کا کھیل یا زندگی میں کوئی مقام نہیں، اور جو لوگ ان واقعات پر خاموش رہتے ہیں وہ بھی اس میں شریکِ جرم ہیں۔
وزیرِ ٹرانسپورٹ Óscar Puente نے ان واقعات کا ذمہ دار “نسل پرست اور زینوفوبک دائیں بازو” کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے برسوں سے ایسے ماحول کو فروغ دیا ہے۔
وزیرِ انصاف Félix Bolaños نے بھی ان نعروں اور گالیوں کو معاشرے کے لیے باعثِ شرمندگی قرار دیا اور کہا کہ خاموش رہنے والے لوگ بھی اس نفرت میں شریک ہیں۔
وزارتِ مساوات کی اعلیٰ عہدیدار Beatriz Carrillo نے اس معاملے کو پراسیکیوٹر کے پاس بھیج دیا ہے تاکہ ان اسلاموفوبک اور زینوفوبک نعروں کی تحقیقات کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ ہسپانوی فوجداری قانون کے آرٹیکل 510 کے تحت “نفرت انگیز جرم” (Hate Crime) کے زمرے میں آ سکتا ہے۔