فٹ بال میچ میں لگنے والے نعرے “یہ بے ادبی ہے اور ناقابلِ برداشت ہے”لامین یمال
Screenshot
ہسپانوی قومی ٹیم اور بارسا فٹ بال کلب کے کھلاڑی لامین یامال نے اسپین اور مصر کے دوستانہ میچ کے دوران اسٹیڈیم میں لگائے جانے والے نسلی اور مذہبی نعروں کو “ناقابلِ برداشت” قرار دیا، اور کہا کہ “کسی مذہب کا مذاق اڑانا ایسے لوگوں کو جاہل اور نسل پرست ظاہر کرتا ہے”۔
انہوں نے کہا“میں مسلمان ہوں، الحمدللہ۔ کل اسٹیڈیم میں نعرہ لگایا گیا ‘جو نہیں کودتا وہ مسلمان ہے’۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ مخالف ٹیم کے لیے تھا اور ذاتی طور پر میرے خلاف نہیں تھا، لیکن ایک مسلمان ہونے کے ناطے یہ پھر بھی بے ادبی اور ناقابلِ برداشت ہے۔”
یامال نے مزید کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تمام شائقین ایسے نہیں ہوتے“جو لوگ ایسے نعرے لگاتے ہیں، وہ مذہب کو مذاق بنانے کے ذریعے خود کو جاہل اور نسل پرست ثابت کرتے ہیں۔ فٹبال لطف اندوز ہونے اور ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے ہے، نہ کہ لوگوں کو ان کے عقیدے یا شناخت کی بنیاد پر توہین کرنے کے لیے۔”
آخر میں انہوں نے کہا“اس کے باوجود، ان لوگوں کا شکریہ جو ہمیں سپورٹ کرنے آئے، ورلڈ کپ میں ملاقات ہوگی۔”
یہ میچ بارسلونا کے اسٹیڈیم میں تقریباً 35,895 شائقین کے سامنے کھیلا گیا، جہاں کچھ تماشائیوں کے رویے نے ماحول کو خراب کر دیا۔ میچ کے دوران بار بار “مسلمان وہ ہے جو نہیں کودتا” جیسے نعرے لگائے گئے، جبکہ مصر کے قومی ترانے کے دوران بھی کچھ لوگوں نے ہوٹنگ کی۔
مزید یہ کہ ایک چھوٹے گروپ کی جانب سے پیدروسانچز کے خلاف بھی نعرے بازی کی گئی۔