مسلم کمیونٹی کاتالونیا کی فٹ بال میچ میں نسلی اور اسلاموفوبک نعروں کی شدید مذمت

Screenshot

Screenshot

کاتالونیا کی مسلم کمیونٹی نے کورنییا میں اسپین اور مصر کے میچ کے دوران لگنے والے نسلی اور اسلاموفوبک نعروں کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں “بالکل ناقابل قبول” قرار دیا ہے۔

یونین آف اسلامک کمیونٹیز آف کاتالونیا (Ucidcat) نے بدھ کے روز جاری اپنے بیان میں ان نعروں پر “سخت غصے، مستردی اور مذمت” کا اظہار کیا۔ تنظیم کے صدر محمد الغیدونی کے دستخط سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ اس طرح کے رویے ایک بین الاقوامی اسپورٹس ایونٹ میں دیکھنے کو ملیں اور فوری طور پر انہیں روکنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہ کیے جائیں۔

تنظیم نے واضح کیا کہ یہ واقعات پوری ہسپانوی سوسائٹی کی نمائندگی نہیں کرتے، لیکن انہیں ایک الگ واقعہ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر اور رویوں کے “معمول بنتے جانے” کا نتیجہ ہیں، جنہیں حالیہ عرصے میں بعض انتہا پسند سیاسی حلقوں نے ہوا دی ہے۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ سیکیورٹی ادارے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کریں، ذمہ دار افراد کی شناخت کریں اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اسی طرح حکومتی اور اسپورٹس اداروں سے بھی سخت مذمت اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تاکہ آئندہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

تنظیم نے کاتالونیا کی مسلم کمیونٹی سے اپیل کی کہ وہ صبر، ذمہ داری اور سمجھداری کا مظاہرہ کرے تاکہ کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ بڑھے۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ تعلیم، مکالمے اور جمہوری طریقے سے اپنے حقوق کے دفاع پر یقین رکھتے ہیں۔

مزید کہا گیا کہ ایسے واقعات انہیں آئینی اقدار، باہمی ہم آہنگی اور معاشرتی ترقی کے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے، اور مسلم کمیونٹی ہسپانوی اور کاتالان معاشرے کا ایک اہم حصہ ہے جو ترقی اور فلاح میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، کاتالونیا میں نسل پرستی کے واقعات صرف فٹبال تک محدود نہیں ہیں۔ SOS Racisme کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 70 شہروں میں 583 نسل پرستی کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے 251 پہلی بار سامنے آئے۔

رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ تقریباً 71 فیصد واقعات کی باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی جاتی، جس کی وجہ اداروں پر عدم اعتماد، انتقامی کارروائی کا خوف یا وسائل کی کمی ہے۔ جبکہ وزارت داخلہ کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق کاتالونیا میں اسلاموفوبیا کے صرف 3 واقعات ہی باضابطہ طور پر “نفرت انگیز جرائم” کے طور پر درج ہوئے۔

متاثرہ افراد کے لیے حکومتی سطح پر مدد کے ذرائع بھی موجود ہیں، جیسے کہ جنرالیتات کی “آفس آف ایکوالٹی آف ٹریٹمنٹ اینڈ نان ڈسکرمنیشن”، جو شکایات، رہنمائی اور ثالثی کے ذریعے مسائل حل کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے