سانچیز کا نیتن یاہو پر سخت ردعمل: “زندگی اور بین الاقوامی قانون کے لیے اس کی بے حسی ناقابلِ برداشت ہے”

Screenshot

Screenshot

اسپین نے جمعرات کے روز لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں اور ایران سے متعلق وسیع تر تنازع پر سخت مذمت کی، اور اس معاملے میں اپنی اس پوزیشن کو مزید مضبوط کیا جس کے تحت وہ امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کے یورپ میں سب سے زیادہ کھل کر مخالفت کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ یہ موقف اس وقت اختیار کیا گیا ہے جب واشنگٹن کی جانب سے نیٹو اتحادیوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ اگر وہ امریکی پالیسی سے ہم آہنگ نہ ہوئے تو ممکنہ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کی اسپین کی مخالفت نے امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی MAGA تحریک سے وابستہ شخصیات میڈرڈ کے خلاف سزا دینے جیسے اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ خوسے مانوئل الباریس نے جاری تنازع کو جدید تہذیب کی بنیادوں پر حملہ قرار دیا، جو اس سے پہلے وزیر اعظم پیدرو سانچیز کی جانب سے ایران پر حملے کے ٹرمپ کے فیصلے پر کی گئی تنقید کی بازگشت ہے۔

انہوں نے کہا“ہم اس تہذیب پر سب سے بڑے حملے کا سامنا کر رہے ہیں جو عقل، امن، باہمی فہم اور عالمی قانون جیسے انسان دوست اصولوں پر قائم ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں طاقت کے ناجائز استعمال، جبر اور من مانی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا“جنگ اور تشدد کے داعی ہمیں تاریخ کے تاریک ترین ادوار کی طرف واپس لے جانا چاہتے ہیں۔”

انہوں نے اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور حال ہی میں طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی توڑنے کا الزام بھی عائد کیا، جس کے بعد لبنان میں حملوں کی ایک نئی لہر میں بدھ کے روز 250 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

وزیر اعظم پیدرو سانچیز، جو اس تنازع کے نمایاں یورپی مخالف کے طور پر سامنے آئے ہیں، پہلے ہی اسپین کی فضائی حدود ان طیاروں کے لیے بند کر چکے ہیں جو ان کے بقول ایک غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی جنگ میں شامل ہیں۔

بدھ کی رات انہوں نے یورپی یونین سے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ معطل کرنے کا مطالبہ دوبارہ دہرایا اور کہا کہ اسرائیل کے “مجرمانہ اقدامات” کو استثنا حاصل نہیں ہونا چاہیے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں سانچیز نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی “زندگی اور بین الاقوامی قانون کے لیے بے حسی ناقابلِ برداشت ہے۔”

اسپین اور اٹلی نے بدھ کے روز لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن سے متعلق الگ الگ واقعات پر احتجاجاً اسرائیلی سفارتکاروں کو طلب بھی کیا۔ میڈرڈ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے مشن میں شامل ایک ہسپانوی اہلکار کو اسرائیلی فورسز نے ناجائز طور پر حراست میں لیا۔

اسی ہفتے الباریس نے خبردار کیا کہ نیٹو سے متعلق ٹرمپ کے بیانات یورپی ممالک کو متبادل سکیورٹی انتظامات پر غور کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

داخلی سطح پر حکومت کا یہ مؤقف عوامی حمایت حاصل کرتا نظر آتا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق اسپین کی اکثریت جنگ کی مخالف ہے، جبکہ سانچیز کی سوشلسٹ پارٹی کو اس مؤقف پر حمایت مل رہی ہے اور انتہائی دائیں بازو کی جماعت ووکس، جو امریکہ اور اسرائیل کی حمایت کرتی ہے، کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے