بارسلونا میں ترقی پسندوں کا عالمی اجتماع: سانچیز کا ٹرمپ اور دائیں بازو پر سخت حملہ، “ان کا وقت ختم ہو رہا ہے”

Screenshot

Screenshot

بارسلونا میں منعقدہ عالمی ترقی پسند اجتماع “Global Progressive Mobilisation” کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اسپین کے وزیرِاعظم پیڈرو سانچیز اور برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی دائیں بازو اور انتہائی دائیں رجحانات کے خلاف ایک مضبوط سیاسی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔

سانچیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ انتہائی دائیں بازو اور ان کے حمایتی ممالک شور زیادہ اس لیے مچاتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا دور ختم ہونے والا ہے۔ ان کے مطابق یہ قوتیں کوئی نیا یا مثبت نظریہ پیش نہیں کر رہیں بلکہ صرف خوف، تقسیم اور شور کے ذریعے اپنا اثر قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں عدم مساوات، غلط معلومات اور سماجی تقسیم بڑھ رہی ہے، جس سے جمہوری نظام اندر سے کمزور ہو رہا ہے۔ سانچیز نے خبردار کیا کہ اگر ترقی پسند قوتیں متحد نہ ہوئیں تو جمہوریتیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

اجتماع میں امریکہ، یورپ اور لاطینی امریکہ کے کئی ترقی پسند رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ امریکی ڈیموکریٹ رہنما اور نیو یارک کے میئر سمیت مختلف شخصیات نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے اس تحریک کی حمایت کی۔ شرکاء نے جنگ مخالف مؤقف، ماحولیاتی تحفظ، صنفی مساوات اور مزدور حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔

سانچیز نے اپنے خطاب میں کہا کہ 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد دنیا نے نیو لبرل پالیسیوں کی ناکامی دیکھ لی ہے اور اب ایک نئے عالمی نظام کی ضرورت ہے جو زیادہ منصفانہ اور نمائندہ ہو۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں اصلاحات اور زیادہ شمولیتی عالمی ڈھانچے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے امیگریشن کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اسپین تارکینِ وطن کا ملک ہے اور اسے نفرت کی سیاست کی ماں نہیں بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی پسند حکومتیں ہمیشہ مساوات، انسانی حقوق اور سماجی انصاف کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔

سانچیز نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور دولت مند اشرافیہ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جمہوریتوں کو ان طاقتوں کے سامنے جھکنے کے بجائے ان کو جوابدہ بنانا ہوگا۔

اختتامی کلمات میں سانچیز نے کہا کہ ترقی پسند قوتوں کو مستقبل پر اعتماد بحال کرنا ہوگا اور لوگوں میں امید اور اعتماد پیدا کرنا ہوگا تاکہ ایک زیادہ منصفانہ اور پرامن دنیا تشکیل دی جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے