زاپاتیرو کی ماریہ کورینا ماچادو پر تنقید، پیدرو سانچیز سے ملاقات نہ کرنے پر اعتراض
Screenshot
سابق ہسپانوی وزیر اعظم زاپاتیرو نے کہا ہے کہ وینزویلا میں انہوں نے “ٹرمپ سے پہلے اور ٹرمپ کے دور میں بھی درجنوں قیدیوں کی رہائی ممکن بنائی”۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں نمایاں کردار موجودہ حکومت کے ساتھ ڈائیلاگ کا تھا۔
انہوں نے وینزویلا کی اپوزیشن رہنما اور نوبل امن انعام یافتہ ماریہ کورینا ماچادو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسپین کے وزیر اعظم پیدروسانچز سے ملاقات نہیں کی، حالانکہ انہیں ایسا کرنا چاہیے تھا۔
زاپاتیرو نے یاد دلایا کہ جو لوگ آج میڈرڈ کے Puerta del Sol میں احتجاج کرتے ہوئے حکومت پر نعرے بازی کر رہے تھے، وہ سب اسپین میں اس لیے موجود ہیں کیونکہ موجودہ حکومت نے انہیں یہاں رہنے اور بہتر زندگی گزارنے کا موقع دیا ہے۔
انہوں نے وینزویلا کی حکومت اور خاص طور پر Delcy Rodríguez کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کی رہائی کا عمل زیادہ تر انہی کی جانب سے شروع کردہ عام معافی کے قانون سے ممکن ہوا، نہ کہ امریکہ کے کسی معاہدے سے۔
زاپاتیرو نے امریکہ کی وینزویلا پالیسی اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں اقدامات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ سب بین الاقوامی قانون کے حوالے سے سوالات پیدا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وینزویلا میں اب بھی اصلاحات اور جمہوری تبدیلی کی کچھ امید موجود ہے، اور اسپین کو اس عمل کی حمایت کرنی چاہیے۔
اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وینزویلا کے حوالے سے بعض جماعتوں کا مؤقف “پرانا اور غیر متعلق” ہو چکا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اسپین کی حکومت نے وینزویلا سے آنے والے ہزاروں افراد کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مثبت کردار ادا کیا ہے، اور اس کا اعتراف ہونا چاہیے۔