جرمنی اور اٹلی نے اسپین کی تجویز مسترد کر دی: یورپی یونین اسرائیل کے ساتھ معاہدہ ختم نہیں کرے گی
Screenshot
جرمنی اور اٹلی نے اسپین، آئرلینڈ اور سلووینیا کی اس تجویز کو روک دیا ہے جس میں یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی بات کی گئی تھی۔
یہ فیصلہ منگل کے روز لکسمبرگ میں ہونے والے یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد سامنے آیا۔ جرمن اور اطالوی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ اس وقت “سیاسی حالات” اس اقدام کے لیے موزوں نہیں اور بہتر راستہ “تعمیری مذاکرات” ہے۔
یورپی یونین اور اسرائیل کے درمیان ایسوسی ایشن معاہدہ سن 2000 سے نافذ ہے، جو یورپ اور تل ابیب کے درمیان ٹیرف فری تجارت اور تحقیقی تعاون کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اس معاہدے کی بنیادی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے، خاص طور پر انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث جو فلسطین، لبنان اور مغربی کنارے میں رپورٹ کی گئی ہیں۔
اس اجلاس سے قبل اسپین کے وزیر خارجہ جوزے مینوئل الباریس نے کہا “آج یورپ اپنی ساکھ کے لیے ایک امتحان سے گزر رہا ہے۔ ہمیں اسرائیل کو واضح طور پر بتانا ہوگا کہ اسے اپنی پالیسی بدلنی ہوگی۔”
آئرلینڈ کی وزیر خارجہ ہیلن میک اینٹی نے بھی اسرائیل کے اقدامات کو “انتہائی ناقابل قبول” قرار دیا۔
اسپین، آئرلینڈ اور سلووینیا نے گزشتہ ہفتے یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار کاجا کالاس کو ایک مشترکہ خط میں کہا تھا کہ اسرائیل معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اس کے بعد اسپین کے وزیر اعظم پیدرو سانچیز نے اتوار کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اس معاہدے کو ختم کرنے کی باضابطہ تجویز پیش کریں گے۔
انہوں نے کہا“جو حکومت بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرے اور یورپی یونین کی اقدار کی خلاف ورزی کرے، وہ ہمارا شراکت دار نہیں رہ سکتی۔ بات اتنی سادہ ہے۔”
تاہم جرمنی اور اٹلی سمیت کئی ممالک نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا کہ “اس وقت نہ مطلوبہ سیاسی حمایت موجود ہے اور نہ ہی اعداد و شمار کی بنیاد پر اکثریت”، اس لیے معاہدہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔
جرمن وزیر خارجہ نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ ختم کرنا “نامناسب” ہوگا اور اس کے بجائے “بات چیت” جاری رکھنی چاہیے۔
اس فیصلے کے باوجود تجویز کے حامی ممالک کا کہنا ہے کہ یورپی یونین اب مزید خاموش نہیں رہ سکتی کیونکہ مشرق وسطیٰ میں حالات تیزی سے خراب ہو رہے ہیں۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں ایک متنازع قانون منظور کیا گیا ہے جس کے تحت صرف فلسطینیوں کے لیے سزائے موت کی شق شامل کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے اس قانون کو “نسلی امتیاز پر مبنی سنگین اضافہ” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔
ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران، لبنان میں بے دخلیاں اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد جیسے واقعات اس معاہدے پر دوبارہ غور کی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔