اسپین میں پہلی بار ‘پیلِ ڈی مارپوسا’ (جلد کی نایاب بیماری) کے مریضوں کو جین تھراپی دی گئی
Screenshot
میڈرڈ: اسپین میں پہلی مرتبہ نایاب جلدی بیماری پیلِ ڈی مارپوسا (جسے ببل ایپیڈرمالیسس بھی کہا جاتا ہے) کے دو مریضوں کو جین تھراپی Vyjuvek دی گئی ہے۔ یہ پیش رفت DEBRA Piel de Mariposa کی جانب سے سامنے آئی ہے، جس کے مطابق یہ علاج خصوصی حالات میں ادویات تک رسائی کے نظام کے تحت فراہم کیا گیا، جبکہ قومی سطح پر اس کی منظوری اور مالی معاونت کا عمل ابھی جاری ہے۔
اس سلسلے میں اندالوسیا پہلی خودمختار کمیونٹی بنی، جہاں سیویل اور مالاگا میں دو مریضوں کو یہ علاج دیا گیا۔ اس مقصد کے لیے قرطبہ، سیویل، مالاگا اور المیریا کے چار ہسپتالوں میں طبی عملے کو خصوصی تربیت بھی دی گئی۔
ابتدائی مریضوں میں سیویل کا 12 سالہ بچہ لیو بھی شامل ہے، جس کی بیماری کی کہانی برسلز تک پہنچی۔ اس کی والدہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاج ان کی زندگی بدل دے گا اور امید ظاہر کی کہ جلد ہی یہ سہولت پورے اسپین میں تمام مریضوں کو میسر ہوگی۔
اگرچہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاج تک رسائی ابھی بھی پورے ملک میں یکساں نہیں۔ ہر علاقے میں انفرادی منظوری درکار ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ DEBRA اسپین کی ڈائریکٹر ایوانینا مورسیلو نے زور دیا کہ ایسے علاج تک رسائی رہائش کی بنیاد پر مختلف نہیں ہونی چاہیے اور اس میں برابری یقینی بنانا ضروری ہے۔
ادویہ Vyjuvek براہِ راست زخموں پر اثر انداز ہوتی ہے، جس سے زخم بھرنے میں مدد ملتی ہے، حتیٰ کہ پرانے زخم بھی ٹھیک ہونے لگتے ہیں۔ اس سے درد میں کمی آتی ہے اور مریضوں کی زندگی کے معیار میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ اس بیماری میں روزانہ 2 سے 5 گھنٹے تک زخموں کی دیکھ بھال درکار ہوتی ہے، اس لیے یہ علاج ایک انقلابی قدم سمجھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 2025 میں یورپی میڈیسن کمپنی کی منظوری کے بعد، DEBRA نے وزارتِ صحت اور دیگر اداروں سے رابطے تیز کیے۔ اس کے علاوہ عوامی مہم کے تحت ڈیڑھ لاکھ سے زائد دستخط بھی جمع کیے گئے، جبکہ فروری 2026 میں یہ معاملہ یورپی پارلیمنٹ تک بھی پہنچا۔
اس وقت محکمہ صحت اس دوا کو قومی صحت کے نظام (SNS) میں شامل کرنے کے لیے مالی معاہدے پر بات چیت کر رہا ہے، جب کہ دوا بنانے والی کمپنی Krystal Biotech نے مارچ 2026 میں اس کی باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔