جنسی تعلق کے ذریعے منتقل ہونے والا ایک نایاب انفیکشن کے بارسلونا میں نو کیسز سامنے آگئے،

Screenshot

Screenshot

ہسپتال یونیورسٹی ویل دِیبرون (Vall d’Hebron) کی ایک تحقیق میں پہلی بار ایسے کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ڈرماٹو فیلوسس (جلدی انفیکشن) ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہوئی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال تشویشناک نہیں ہے۔

یہ انفیکشن عام طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، لیکن دسمبر 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان بارسلونا میں نو کیسز ایسے سامنے آئے ہیں جن میں غالب امکان ہے کہ یہ بیماری جنسی تعلق کے ذریعے انسان سے انسان میں پھیلی۔

تمام مریض ایسے مرد تھے جنہوں نے مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا تھا۔ ان میں ہلکی جلدی علامات ظاہر ہوئیں، جیسے دانے، ابھار یا چھوٹے گومڑ، جو زیادہ تر جنسی اعضا، رانوں، بغلوں یا داڑھی کے علاقے میں پائے گئے۔ ان مریضوں کا جانوروں سے کوئی رابطہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ کسی ایسے خطے میں گئے تھے جہاں یہ بیماری عام ہو۔ البتہ ان سب میں ایک چیز مشترک تھی کہ وہ سونا (sauna) جاتے تھے، جہاں نمی کی وجہ سے بیماری کے پھیلاؤ میں آسانی ہوئی۔

تحقیق کے مطابق تمام مریضوں کی حالت بہتر رہی اور انہوں نے اینٹی بایوٹک علاج کا اچھا جواب دیا، بغیر کسی پیچیدگی کے۔ اسی لیے ماہرین عوام سے گھبرانے کے بجائے اطمینان رکھنے کی اپیل کر رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیماری کی علامات واضح نہیں ہوتیں، اس لیے ڈاکٹروں کو چاہیے کہ جلدی مسائل کے بعض کیسز میں اس امکان کو ذہن میں رکھیں تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔ ان کے مطابق ممکن ہے کہ ایسے مزید کیسز موجود ہوں جو ابھی تشخیص نہیں ہو سکے۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس بیکٹیریا کی یہ قسم جینیاتی طور پر جانوروں میں پائی جانے والی قسم سے مختلف ہے اور ممکن ہے کہ یہ انسانوں کو زیادہ آسانی سے متاثر کرنے اور ایک سے دوسرے میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہو۔

بارسلونا کی اس تحقیق کے بعد پیرس اور لیون میں بھی اسی نوعیت کے کیسز سامنے آئے ہیں، جبکہ برلن میں بھی کچھ کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ یورپ کے مختلف حصوں میں سامنے آنے والے یہ کیسز ایک جیسے ہیں، یعنی زیادہ تر ایسے مرد متاثر ہوئے ہیں جنہوں نے مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا اور نمی والے ماحول جیسے سونا میں وقت گزارا۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس بیماری کو کسی خاص طبقے سے جوڑ کر بدنام نہ کیا جائے، بلکہ سب کی جنسی آزادی کا احترام کیا جائے۔ تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر قریبی رابطے میں صفائی کا خیال رکھا جائے، مثلاً استرا یا تولیہ مشترکہ استعمال نہ کیا جائے کیونکہ یہ جراثیم جلد پر موجود ہو سکتا ہے۔

آخر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ بیماری کے پھیلاؤ کا یہ بدلتا ہوا انداز نیا نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ایسی مثالیں سامنے آ چکی ہیں، جیسے مونکی پاکس (Monkeypox)، اور یہ سب ایک گلوبل دنیا میں بڑھتے ہوئے روابط اور سفر کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے