سوشل میڈیا پر اپریل میں 85 فیصد نفرت انگیز پیغامات مہاجرین کو بدنام کرنے کے لیے استعمال ہوئے
Screenshot
رپورٹ کے مطابق اپریل کے دوران سوشل میڈیا پر مانیٹر کیے گئے 85 فیصد مواد کا مقصد مہاجرین کو بدنام کرنا تھا۔ ان میں سے 55 فیصد پیغامات میں انہیں ایک خطرہ قرار دیا گیا، جبکہ 30 فیصد میں انہیں ملک سے نکالنے کی ترغیب دی گئی۔
یہ اعداد و شمار ہسپانوی آبزرویٹری برائے نسل پرستی اور بیگانہ پن (Oberaxe) کی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جو وزارتِ شمولیت، سماجی تحفظ اور ہجرت کے ماتحت کام کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اضافہ غیر معمولی انتظامی ریگولرائزیشن (قانونی حیثیت دینے) کے عمل کے آغاز سے جڑا ہوا ہے۔ مارچ کے مقابلے میں اپریل میں ایسے پیغامات میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں پہلے اخراج پر اکسانے والے پیغامات 16 فیصد تھے، وہ بڑھ کر 30 فیصد ہو گئے، جبکہ بدنام کرنے والے پیغامات 36 فیصد سے بڑھ کر 55 فیصد تک پہنچ گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ قونصل خانوں کے باہر لمبی قطاروں کی تصاویر جیسے واقعات بھی سوشل میڈیا پر نفرت کو بڑھانے کا سبب بنے۔
اپریل میں FARO سسٹم نے 39,559 نفرت انگیز پیغامات کی نشاندہی کی، جو مارچ کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ ہیں۔ ان پیغامات میں نسل پرستی، اسلاموفوبیا، یہود مخالف اور دیگر امتیازی مواد شامل تھا۔
دوسری جانب سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے ایسے مواد کو ہٹانے کی شرح کم ہو کر 56 فیصد رہ گئی، جبکہ مارچ میں یہ شرح 62 فیصد تھی۔
گروہوں کے حوالے سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ نشانہ شمالی افریقی افراد (54 فیصد) بنے، اس کے بعد مسلمان (38 فیصد) اور پھر عمومی طور پر مہاجرین (13 فیصد) شامل ہیں۔
تاہم ایک مثبت پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ غیر انسانی یا تضحیک آمیز مواد میں کمی آئی ہے، جو مارچ کے 39 فیصد سے کم ہو کر اپریل میں 13 فیصد رہ گیا۔ اسی طرح جنگی تنازعات سے جڑے مواد میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔
پلیٹ فارمز کی کارکردگی کے لحاظ سے TikTok سب سے آگے رہا، جہاں 86 فیصد مواد ہٹا دیا گیا، اس کے بعد X (83 فیصد)، Instagram (65 فیصد)، Facebook (40 فیصد) اور YouTube (11 فیصد) رہے۔