Screenshot
سیوتا میں حالیہ مہاجر بحران کے بعد ہسپانوی حکومت نے لاپتہ افراد کے لیے ایک خصوصی دفتر قائم کر دیا ہے، جہاں اب تک اہلِ خانہ کی جانب سے 32 مستند شکایات موصول ہو چکی ہیں۔
حکومتی نمائندے میگوئل اینخل پیریز تریانو نے بتایا کہ یہ دفتر 30 اور 31 جولائی کے واقعات کے تناظر میں بنایا گیا ہے، جب ہزاروں افراد تیر کر یا سرحدی رکاوٹ عبور کر کے سیوٹا میں داخل ہوئے تھے۔ گواردیا سول کے ماہر سرجیو مونگیا کے مطابق ان شکایات کی بنیاد پر تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک 29 کیسز ایسے ہیں جن میں لاشوں کو اہلِ خانہ کے فراہم کردہ ڈی این اے سے ملانے کا امکان موجود ہے، جبکہ ایک کیس کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے ہو چکی ہے اور مزید شناخت کی کوششیں جاری ہیں۔
یہ دفتر لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اور دوستوں سے معلومات، تصاویر اور تفصیلات (جیسے کپڑے، نشانات یا زیورات) جمع کرتا ہے اور اسی بنیاد پر تلاش کا عمل آگے بڑھایا جاتا ہے۔ معلومات جمع کروانے کے لیے ایک ای میل سروس بھی قائم کی گئی ہے تاکہ عمل تیز اور خفیہ رکھا جا سکے۔ اس کے علاوہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے ماہرِ نفسیات اور سماجی کارکن بھی موجود ہیں۔
ادھر حکام نے تسلیم کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں سیوتا آنے والے افراد کی بڑی تعداد نے تمام وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ کئی خاندان بچوں کے ساتھ سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔
حکام کے مطابق 100 سے زائد گواردیا سول اہلکار، جو پہلے تعینات کیے گئے تھے، اب بھی شہر میں موجود رہیں گے اور نیشنل پولیس کے ساتھ مل کر حساس علاقوں، خاص طور پر مضافاتی بستیوں میں، سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔
مزید برآں، کم عمر مہاجرین کی تعداد مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور ان کی شناخت اور منتقلی کا عمل جاری ہے، جس کی نگرانی متعلقہ ادارے کر رہے ہیں۔
